از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بنیادی سطح پر دیکھا جائے تو مسلم معاشرے میں کئی طرح کی سماجی واخلاقی برائیاں ہیں اور یہ برائیاں اس قدر ذہنوں اور سوچ میں اثر کرچکی ہیں کہ بیشتر طبقہ ان برائیوں کو برائی ماننے کیلئے بھی تیارنہیں ہے۔آج مسلم معاشرے میں جہاں شراب نوشی،جہیز،غیرشرعی رسومات، شادی بارات میں خرافات جیسی برائیاں عام ہوچکی ہیں اور ان برائیوں کی روک تھام کیلئے جس طبقے کو آگے آنا چاہیے تھا وہ خود ہی اسے جائز قرار دینے لگاہے اور ہر برائی کو ماڈرن نام دیکر یا پھر طریقہ کاربدل کر انجام دیکر اسے اپنے اوپر حلال کرنے پر آمادہ ہوچکاہے۔ان تمام برائیوں کے علاوہ سب سے اہم برائی جو دیکھی جارہی ہے وہ نشہ خوری کی عادت ہے،اس نشہ خوری کی عادت سے نوجوان طبقہ صحیح وغلط،اچھائی برائی،حرام وحلال،ثواب ،عذاب کا فرق بھول چکاہے۔ مسجدوں میں ہم کتنی ہی تقریریں کرلیں، کتنے ہی تحریریں لکھیں اس کااثر اس لئے نہیں ہورہاہے کہ اس برائی کو ختم کرنے کیلئے اجتماعی طو رپر فیصلے نہیں لئے جارہے ہیں۔بچوں کی برائی ماں باپ کے سامنے کی جاتی ہے تو ماں باپ ماننے کیلئے تیارنہیں،شاگردکی برائی استادکے سامنے کی جائے تو استادماننے کیلئے تیارنہیں،مخصوص اسکول یا تعلیمی ادارے کے بچوں کی شکایت مینجمنٹ سے کی جائے تو مینجمنٹ بُرا مان جاتاہے۔جب اسی طرح سے محلوں میں برائی ہونے کی بات کی جاتی ہے تو خود ساختہ محلے کے لیڈران اکڑ جاتے ہیں کہ ہمارے محلے کوبدنام کیاجارہاہے۔حقیقت میں یہ یہاں بات بدنام کرنے یا سراہانے کی نہیں بلکہ ڈرگس کی وجہ سے کتنے گھر تباہ وبرباد ہورہے ہیں،اُس پر غور کرنے کی بات ہے۔کسی کوبدنام کرنے سے یا کسی کو شرمسارکرنے سے کوئی فائدہ نہیں،لیکن جو نقصان پورے معاشرے کو ہورہاہے وہ غوروفکر کی بات ہے۔والدین اپنے بچوں پر نظررکھیں،دیکھیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ہر دن شام کو اسکول یا کالج سے لوٹنے کے بعد آپ کے بچے کہاں جارہے ہیں؟کون آپ کے بچوں کے ساتھ گھوم رہاہے،اُس کی مصروفیات کیا ہیں؟تنہائیوں میں کن عادتوں کا شکارہورہاہے؟۔کونسی دوائیاں،چاکلیٹس وکھا رہاہے؟کیونکہ بنیادی طو رپر ڈرگس کھلے عام استعمال نہیں کیاجاتا،بلکہ اس کیلئے الگ الگ طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ڈرگس کے معاملے کو لیکر ہم اس لئے سنجیدہ ہیں کہ یہ عادت ساری نسلوں کو تبادہ برباد کرتی جارہی ہے،جیسے شراب کو اُم الخبائث کا کہاجاتاہے،اُسی طرح سے گانجہ ،افیم، ہیرائن جیسی ادویات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کابچہ ان عادتوں میں ملوث نہیں ہے تو اچھی بات ہے،لیکن کراس چیک کرنابھی ضروری ہے۔روزِ محشر میں جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کاحساب کرتاہے،اسی دوران وہ ہر انسان کے اعمال کاجائزہ بھی لیتاہے تو وہ ایک دوسرے کی شہادت بھی لیتاہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے اعمال کا پتہ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کوجانتاہے،باوجود اس کے وہ کراس چیک کرواتاہے،تاکہ بندے کو اس بات کااطمینان ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ثبوت بھی اپنے پاس رکھتاہے،تو انسان تو اُس کی معمولی مخلوق ہے،تو کیونکر اپنے بچوں کا کراس ویریفیکیشن نہیں کیاجارہاہے۔حالات بہت نازک ہیں،کب بچے بگڑ جاتے ہیں کسی کو اندازہ نہیں ہوتا،اس لئے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کی نگرانی کریں،اُنہیں تباہ ہونے سے بچائیں اور اُ ن کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے پابند رہیں۔
