اُلال میں لگا متنازع بینر ۔ غیر ہندووں کو کاروبار کی نہیں ہوگی اجازت

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
منگلورو:۔ الال بیل میں وئیدیا ناتھ مندر کے سالانہ تہوار کے موقع  پر اس علاقہ میں وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی طرف سے  ہندووں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک متنازع بینر لگایا گیا ہے جس میں ہدایت دی گئی ہے کہ دیوی دیوتاوں کا تقدس خراب کرنے اور ان کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ تم لوگوں کو لین دین نہیں کرنا چاہیے ۔ صرف دیوتاوں کی پوجا کرنے والے ہندو بھائیوں کے ساتھ لین دین کریں ۔ اس سرزمین کے دیوتاوں کی پوجا کرنے والوں کو ہی یہاں کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی ۔ اس بینر کے سلسلے میں جب بحث چل پڑی تو ڈسٹرکٹ انچارج وزیر سنیل کمار نے نہ صرف اس موقف کی حمایت کی بلکہ یہ بھی کہا کہ ایسے بینر لگانے والوں کے خلاف کوئی اقدام نہ ہو اور انہیں کوئی تکلیف نہ ہو اس کا خیال رکھنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس پر سابق وزیر اور ایم ایل اے یو ٹی قادر نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے سنیل کمار کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ حکومت کے ایک وزیر کی حیثیت سے انہیں اس طرح کا کام کرنا چاہیے جس سے عام آدمی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ میں نے  افسران کو بتایا ہے کہ میرے حلقہ اسمبلی میں اس طرح کے مسائل پیدا نہ ہونے دیں۔
قادر نے سنیل کمار کو لتاڑتے ہوئے کہا :” صرف اس حرکت کے پیچھے اپنی پارٹی کے کارکنان ہونے کی وجہ سے عوام کی غلط رہنمائی کا کام وزیر کو نہیں کرنا چاہیے ۔ بیشتر پارٹی کارکنان کے بچے اسکول فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے گھروں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ کئی پارٹی کارکنان کے مکانات کی تعمیر ادھوری پڑی ہے ۔ وزیر کو ان کے مسائل حل کرنا چاہئے ۔  مالی پریشانیوں کا شکار جو لوگ اسپتالوں میں داخل ہیں ان کے بل ادا کرنا چاہیے ۔ سیکڑوں لوگ بے روزگار ہیں ان کو نوکریاں دلانا چاہیے ۔ اس کے بجائے الیکشن کے موقع پر کارکنان کی خدمات حاصل کرکے ان کے ذہنوں کو مسموم کیا جاتا ہے اور سماج میں پھوٹ ڈالی جاتی ہے تو ان کارکنان کے حق میں نقصان دہ بات ہے ۔”
یو ٹی قادر نے مزید کہا :” میں نے افسران کو ہدایت دی تھی کہ جن لوگوں نے  بینرس لگائے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ورنہ لوگ اس طرح کے بینرس لگاتے جائیں گے جو معاشرے کے لئے مضر ہوگا ۔ الال کے جس مندر کے پاس یہ بینر لگایا گیا ہے وہاں تمام مذاہب کے لوگ حاضری دیتے ہیں۔  میں  خود بھی وئید ناتھ  مندر میں حاضری دینے والوں میں  شامل ہوں ۔ میں نے وہاں ایک کانکریٹ سڑک کی تعمیر بھی کروائی  ہے ۔”
خیال رہے کہ الال بیل مندر علاقہ میں اس متنازع بینر کا معاملہ گرمانے اور اس پر اعتراضات  سامنے آنے کے بعد مقامی پولیس نے کارروائی کی اور متعلقہ بینر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔