طلباء کو حجاب اور شال پہننے کا موقع نہیں دیاجائیگا: ارگا گیانیندرا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
بنگلور:۔ کالجوں میں زعفرانی شال اور حجاب پہننے کے تنازعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ ارگا گیانیندر نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئےکہا ہے کہ اسکول کے احاطے کے اندر حجاب اور زعفرانی شال پہننا نہیں چاہیے۔اس بارے میںمیڈیا سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ ارگا گیانیندر نے کہا کہ اسکول انتظامیہ جو کہتا ہے وہ طلباء کو سننا چاہئے۔ یونیفارم کے بارے میں وزیر تعلیم پہلے ہی وضاحت کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا سکول کے اندر حجاب، سبز شال یا زعفرانی شال نہیں پہننا جاسکتا۔یہ واقعہ کنداپور گورنمنٹ کالج میںاس وقت رونما ہوا ہے جب حکومتی احکامات کے باوجود کالج میں طالبات نے حجاب پہن کر آئے اور اسی بات کو لیکر طالبات اور پرنسپل کے درمیان تنازعہ پیش آیا۔پرنسپل نے مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کلاس میں جانے سے روک دیااور کہا کہ حجاب نکالیں پھر کلاس میں جائیں۔طلباء اور پرنسپل کے درمیان گیٹ پر ہی بحث چھڑ گئی ، طلباء کا کہنا تھا کہ سرکاری حکم نامے میں کنداپور کالج کا ذکر نہیںہواہے۔ پرنسپل نے جواب دیا کہ حکومت نے پوری ریاست کیلئے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے۔دوسری طرف ہندو طلباء زعفرانی شال پہنے ہوئےکالج آئے تھےاورگذشتہ روز بھی سینکڑوں طلباء زعفرانی شالیں پہنے کالج آئےتھے۔ اُڈپی ضلع کے کنداپور تعلقہ کی گورنمنٹ کالج میںاٹھنے والاحجاب کا معاملہ لمحہ بہ لمحہ پیچیدہ ہوتاجارہا ہے۔ اس وقت کرناٹک کے وزیر داخلہ ارگاگیانیندرا نے واضح کیا ہے کہ وہ اسکولوں میں نہ حجاب پہننے کا موقع دینگے نہ ہی طلباء کو شال اوڑھ کر آنے کیلئے گنجائش فراہم کرینگے۔ اسی طرح کا اعلان وزیر تعلیم ناگیش نے کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو جنگ کا میدان بننے کا موقع نہیں دیا جائیگا۔اس وقت طلباء کو تعلیم کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ حجاب اورشال کے معاملے میں اپنا مستقبل دائو پر لگانا چاہئے۔ ریاست کے وزیر داخلہ ارگاگیانیندراکہاہے کہ اسکول وکالج میں تمام مذاہب کے لوگ زیرتعلیم ہوتے ہیں ایسے میں تمام طلباء ایک جیسےہی لباس میں آئیں اس سے ملک کی یکجہتی پر اچھااثرپڑیگا۔ وہیں کرناٹکا ہائی کورٹ میں ایک طالبہ کی جانب سے دائر کردی ریٹ پٹیشن کے تعلق سے آج ہائی کورٹ میں سنوائی ہونی تھی ،لیکن عدالت نے اس معاملے کی سنوائی کو 8 فروری تک ملتوی کیا ہے۔ اڈوکیٹ جنرل پربھولنگا خود اس معاملے کی وکالت کرینگے اسکے لئے انہیں مہلت دی جائے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کی بات کو قبول کرتے ہوئے اگلی سنوائی 8 فروری تک ملتوی کی ہے ۔ دوسری طرف ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا نے کہا ہے کہ حجاب کا معاملہ اسکول وکالجوں کا ہے اس سلسلے میں فیصلہ طلبا ء ومینجمنٹ کی طرف سے ہوگا۔ اسمیں مداخلت کرنا میں ضروری نہیں سمجھتا ہے۔