اہم خبر؛ اڈپی طالبات کے حجاب کامعاملہ: کرناٹک ہائی کورٹ نے جاری کیا حکومت کو نوٹس، یم ایل اے پر دعویٰ

بنگلور 4 فروری(انقلاب نیوز بیورو): اڈپی کی سرکاری گرلس پی یو کالج کی دو طالبات نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں حجاب کے حق کو لے کر رٹ پٹیشن دائر کی تھی جسکی سنوائی کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت کرناٹک، یم ایل اے اڈپی رگھوپتی بھٹ، پی یو بورڈ کے کمشنر ،پرنسپل کو نوٹس جاری کی ہے ۔
کالج کی طالبہ ریشمہ فاروق کی والدہ رحمت فاروق، عائشہ الماس کی والدہ سعدیہ بانو سمت 5 طالبات کے والدین کرناٹکا ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڈپی کے رکن اسمبلی کالج کی سرگرمیوں میں مداخلت کررہے ہیں اور طالبات سے انکے مذہبی حقوق چھینے جارہے ہیں، اس معاملے کی سنوائی کے لئے ہائی کورٹ کی ایک رکنی بنچ جسٹس کرشنا ین دیکشت نے حکومت کرناٹک اور دیگر مدعی کو نوٹس جاری کی ہے، اس دوران حکومت کی جانب سے نمائندگی کرنے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے اس معاملے کی وکالت خود ایڈوکیٹ جنرل کرینگے اسکے لئے وقت دیا جائے ۔ دوسری جانب طالبات کی وکالت کررہے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ طالبات کو کلاس روم سے باہررکھا گیا ہے اور انکی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں اور اس معاملہ کو ترجیحی بنیادوں پر سماعت کے لئے وقت دیا جائے، عدالت نے وکلاء کی باتوں کا جائزہ لیتے ہوئے معاملے کی اگلی سنوائی 8 فروری کے دن مقرر کی ہے اور ایڈوکیٹ جنرل کو اہنا موقف رکھنے کی ہدایت دی ہے ۔
