مسلمان خرافات سے نکل کر تعلیمی اداروں کے قیام پر توجہ دیں: تنویرہاشمی

بنگلور: گذشتہ کئی دنوں سے صوبہ کرناٹکا کے اڑپی اور کنداپور شہروں میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے کے مسئلے پر ہنگامہ برپاہے۔ فرقہ پرست جماعتیں اور برسر اقتدار حکومت حجاب کے مسئلے کو سیاسی بنانے کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستی اور منافرت کا رنگ دینے میں کامیاب نظر آنے لگی ہے۔ مذکورہ شہروں کے کالجوں کے پرنسپل اور انتظامیہ نے جوسخت رخ اختیار کیا ہے وہ جلد بازی میں نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کیا گیاہے،اس بات کا اظہار کرناٹکامسلم جماعت کے ریاستی صدرمولانا تنویر ہاشمی نے کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اخباری بیان جاری کیاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مسلم طالبات حجاب حالیہ دنوں میں استعمال نہیں کر رہی ہیں بلکہ ماضی میں بھی حجاب کے ساتھ کالج میں شریک ہوتی رہی ہیں۔ ماضی میں حجاب پہننے پرکوئی اعتراض نہیں تھا، اب حجاب پہننے پر کیوں اعتراض کیاجارہاہے؟ حجاب کے استعمال پرکیوں پابندی لگائی جارہی ہے؟ مسلم طالبات کے حجاب پہننے کے مسئلہ کو فرقہ پرستوں نے مذہبی رنگ دیتے ہوئے تعلیمی اداروں کو نفرت زدہ کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور آئندہ سال کرناٹکا میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے ہندو مسلم مسئلہ بناکر حجاب کے مسئلہ کا سہارا لے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی ایک ناپاک کوشش کی ہے۔ ویسے صوبہ کرناٹکا کاساحلی علاقہ عرصۂ دراز سے فرقہ پرستی کا شکار ہے۔ آرایس ایس سے تعلق رکھنے سخت گیر اور متشدد عناصر اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حجاب کامسئلہ جب ابھارا گیا تو بہت سارے ذمہ داروں نے کالج کے پرنسپل اور انتظامیہ سے ملاقات کرکے انہیں سنجیدگی کے ساتھ سمجھانے کی حتی المقدور آئین ہند کی دفعہ 25 کی روشنی میں کوشش کی مگر نتیجہ منفی نکلا۔
مسلسل سیکولر سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار برسراقتدار حکومت پر دبائو بنانے کی کوششیں کی ہیں مگر امید بہت کم ہے کہ حکومت اس مسئلہ حجاب کو مسلم طالبات کے حق میں جائز قراردے۔ مسلسل سوشیل میڈیا میں اس مسئلہ حجاب پر پابندی کو لے کر ایک تحریک بھی چلائی جارہی ہے، مگر اس کا کوئی اثر حکومت پر نظر نہیں آرہاہے۔ اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں اس مسئلہ حجاب پر Debate کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ذمہ دار علماء ومشائخ باہمی مشاورت بھی کررہے ہیں کہ مسئلے کاحل کس طرح تلاش کیاجائے۔ درایں اثنا معلوم ہوا کہ طالبات کی جانب سے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیاگیا ہے جس پر فیصلہ 8؍ فروری کو سنایا جائے گا۔
مذکورہ مسئلہ حجاب کے تعلق سے سرسری جائزہ لینے کے بعد ہمیں ان امور پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس میں دورائے نہیں کہ حجاب ہمارا آئینی حق ہے۔ ہمارے ملک کا دستور ہمیں اس کی اجازت دیتاہے، مگر افسوس ملک اور صوبہ کرناٹکا کا نظامِ حکومت ایسے فرقہ پرستوں کے ہاتھوں میں ہے جو دستور ہند کو تبدیل کرنے کا ناپاک ارادہ رکھتے ہیں۔ اور ایسی ہی فکر سے ہم آہنگ افراد عدلیہ کے نظام میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ خدا کرے کہ 8؍ فروری کو فیصلہ حق بجانب صادر ہو۔
ایسے پراگندہ ماحول میں قانونی لڑائی ضرور لڑنی چاہئے اور بیک وقت تدابیر پربھی غور کرناچاہئے۔ جیسے مسلمان ہرشہر میں معیاری تعلیمی ادارے قائم کریں اور غریب طالبات کے لیے حکومتی طرز پر مفت تعلیم دینے کانظم بنائیں تاکہ ہماری بیٹیاں حجاب کے ساتھ باعزت تعلیم حاصل کرسکیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک بڑاطبقہ شادی بیاہ ودیگر تقاریب میں فضول خرچی کے دلدل میں پھنساہواہے۔ یہ افراد ان خرافات سے نکل کر تعلیمی اداروں کے قیام پر توجہ دیں۔ نیز وقف املاک اور اس کی آمدنی کاجائز استعمال کیاجائے تو پورے صوبہ کرناٹکا میں بڑی تعداد میں معیاری تعلیمی ادارے قائم کیے جاسکتے ہیں۔ مسلم انتظامیہ کے ماتحت چلنے والے تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ ملت کی غریب بیٹیوں کو مفت تعلیم دینے کے نظام کو فروغ دیں۔ حالات حاضرہ کے تناظر میں حسب ضرورت مدرسہ ومسجد بنائیں مگر اس جانب خصوصی توجہ کریں کہ زیادہ سے زیادہ ہمارے تعلیمی ادارے قائم ہوں اور علاج ومعالجہ کے لیے اسپتال بنائے جائیں۔
سیاسی حضرات اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ علماء کرام سنجیدگی کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک کے موجودہ ماحول کو پیش نظر رکھتے ہوئے خطاب فرمائیں اور ضرورت پڑنے پر اخباری بیان جاری کریں۔ ہرطرح کی ایسی بیان بازی سے اجتناب کریں جس کافائدہ فرقہ پرست اٹھاسکتے ہوں۔ بالخصوص ملت کے نوجوانوں سے التماس ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر نہ کوئی ایسی پوسٹ شیئر کریں نہ اس کا حصہ بنیں جس کو موضوع بناکر منافرت کا بازار گرم کیاجائے۔ علماء کرام جمعہ کے خطابات میں اصلاح معاشرہ کے عنوانات پر سنجیدگی کے ساتھ مسلسل گفتگو فرمائیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ مستقبل میں حجاب کے مسئلہ کو قانونی طورپر منطقی نتیجہ پر پہنچانے کے لیے ہم سب قوم کی باوقار طالبات کے ساتھ کھڑے رہیںگے اور اس لڑائی کو دستور ہند کی روشنی میں ہر محاذ پر لڑتے رہیںگے۔ اڑپی اور کنداپور یا ملک کے کسی بھی حصہ میں آباد قوم کی باعزت بیٹیوں کی ہمت وجرأت کو ہم سلام کرتے ہیں جودستور ہند کی روشنی میں حجاب کے مسئلہ کی لڑائی لڑرہی ہیں۔
