منگلورو:۔ کالج اور اسکولوں کی انتظامیہ کمیٹیوں میں بی جے پی کے لیڈران اور اراکین اسمبلی ہی شامل رہیں گے تو طالبات کو انصاف کیسے ملےگا ؟ یہ سوال سوشیل ایکٹیویسٹ اورمینگلور کے ایڈوکیٹ دنیش ہیگڈے اولیپاڈی نے وزیر اعلیٰ کرناٹکا کو مراسلہ لکھتے ہوئے پوچھا ہے۔حجاب بمقابلہ زعفرانی شال تنازع کے پس منظر میں طلباء کے درمیان ابھرنے والی چپقلش اور آپسی دوری کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر وزیر اعلیٰ بومائی کو روانہ کئے گئے مراسلہ میں ایڈوکیٹ دنیش ہیگڈے نے اپیل کی ہے کہ طلبا کے درمیان بھائی چارگی ، ہم آہنگی اور یگانگت کو فروغ دینے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے۔انہوں نے لکھا کہ حجاب پہن کر آنے کو ہی بہانہ بنا کر طالبات کو کالج احاطہ سے باہر رکھنا اور ان پر کالج کے دروازے بند کر دینا قابل مذمت حرکت ہے ۔ خود پرنسپال کا طالبات کو دھکے دے کر باہر نکالنا اور گیٹ بند کرنا ایک غیر انسانی حرکت ہے ۔ یہ مسئلہ وہیں پر ختم نہیں ہوا بلکہ اب ریاست کے دوسرے علاقوں میں کالجوں کی انتظامیہ کمیٹی نے حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو اسکولوں اور کالجوں سے باہر کرنا شروع کردیا ہے ، جس سے یہ تنازع بڑھتا جارہا ہے ۔ اس وجہ سے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے بیچ ہم آہنگی ، یگانگت اور بھائی چارگی کو فروغ دینے کے منصوبے بنائے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ تمام طلبہ کو انتظامیہ کمیٹی کے طے شدہ یونیفارم میں ہی کالج میں آنے اور اس ہدایت پر عمل نہ کرنے پر کالج سے باہر کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ جب ان انتظامیہ کمیٹیوں میں بی جے پی کے لیڈران اور اراکین اسمبلی شامل رہیں گے تو کیا طلبہ کو انصاف مل سکتا ہے ؟ کل پرسوں تک ایک ہی کلاس میں دوستوں ، سہیلیوں اور بھائی بہنوں کی طرح ایک ساتھ پڑھائی کرنے والے طلبہ کے درمیان دوری پیدا کرنے کا معاملہ ہوگیا ہے ۔ اس لئے اس کو مزید بڑھنے کا موقع دئے بغیر فوری طور پر اقدام کرنا ضروری ہے۔
