دہلی:۔ملک بھر میں ایم پیز؍ایم ایل اے کے خلاف زیر التواء فوجداری مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کی درخواست پر سپریم کورٹ میں آج اس معاملے کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں ایمیکس کیوری سینئر ایڈوکیٹ وجے ہنساریا نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں رپورٹ داخل کر دی ہے۔ چیف جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ وہ اس معاملے کی فہرست بنائیں گے۔ دراصل ایڈوکیٹ وجے ہنساریہ نے سپریم کورٹ میں 16ویں رپورٹ داخل کی تھی اور کہا تھا کہ دو سالوں میں ایم پی؍ایم ایل اے کے خلاف زیر التواء مقدمات کی تعداد 4122 سے بڑھ کر 4984 ہو گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مجرمانہ پس شبیہہ والے افراد پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ میں سیٹوںپر قابض ہیں۔ایمیکس کیوری نے سپریم کورٹ میں عرض کیا ہے کہ مرکزی حکومت نے ایم پیز اور ایم ایل ایز کے خلاف مقدمات کی تیز رفتار تحقیقات اور ٹرائل اور عدالتوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں کوئی جواب داخل نہیں کیا ہے۔ ایمیکس کے مطابق تمام عدالتوں میں انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے عدالتی کارروائی کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کا ہونا ضروری ہے ۔ایمیکس نے مرکزی حکومت سے ہدایت طلب کی ہے کہ وہ ورچوئل کے ذریعے عدالتوں کے کام کو آسانی سے چلانے کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز فراہم کرے۔ یعنی ویڈیو کانفرنس کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
