مارچ 2022 تک خوب پریشان کریگی مہنگائی:آربی آئی گورنر کاانتباہ! 

نیشنل نیوز
دہلی:۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر شکتی کانتا داس نے مانیٹری پالیسی جائزہ میٹنگ کے بعد کہا کہ رواں سہ ماہی جنوری۔مارچ 2022 میں خوردہ مہنگائی صارفین کو بہت پریشان کرے گی۔ نئے مالی سال کے آغاز کے بعد ہی اس میں نرمی کے آثار نظر آرہے ہیں ۔ مانیٹری کمیٹی کی تین روزہ میٹنگ کے بعد، گورنر شکتی کانت داس نے مالی سال 2022-23 کے لیے تخمینی خوردہ مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں خوردہ مہنگائی 4.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ موجودہ سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح اونچی رہے گی، لیکن یہ 6 فیصد کی مقررہ حد سے آگے نہیں جائیگی۔ تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے ماہرین اقتصادیات کے درمیان کرائے گئے ایک سروے میں کہا ہے کہ جنوری میں خوردہ مہنگائی 6 فیصد تک پہنچ جائے گی جو کہ آر بی آئی کے دائرہ کار کا آخری چھور ہے۔شکتی کانت داس نے کہا ہے کہ فی الحال خوردہ مہنگائی سے زیادہ راحت ملتی نظر نہیں آرہی اور 2022-23 کی دوسری ششماہی یعنی ستمبر 2022 کے بعد ہی اس میں نرمی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ مہنگائی پر گھریلو وجوہات سے سے زیادہ گلوبل فیکٹر کا دباؤ ہے۔ پوری دنیا میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ایسی صورت حال میں فی الوقت صرف ہندوستان میں اس کے نیچے گرنے کا کوئی امکان نہیں نظر آرہا ہے۔ریزرو بینک کے گورنر نے مہنگائی کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو کھانا، سبزیاں، ایندھن اور کپڑے وہ خرید رہے ہیں وہ مہنگے ہیں تو ان کے ذہن میں مہنگائی ہی گھومے گی۔ حالانکہ صارفین کی مصنوعا ت کی کمپنیوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا اثر خوردہ مہنگائی پر بھی ضرور نظر آئیگا۔