چھوٹے واقعات معاشرے کے لیے اچھے نہیں، ہم سب ایک خاندان ہیں‘ نتن گڈکری

نیشنل نیوز
دہلی:۔مرکزی وزیر نتن گڈکری نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اپنے آر ایس ایس کے دنوں کے ایک گیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ کرناٹک میں حجاب تنازعہ جیسے چھوٹے واقعات سماج کے لیے اچھے نہیں ہیں۔  ایک انٹرویو کے دوران حجاب کے سلسلے میں ان کے موقف کے بارے میں پوچھے جانے پر گڈکری نے کہا کہ ان کا مشورہ یہ ہوگا کہ تمام مذاہب اور مختلف عقیدوں اور جنس کے لوگوں کا احترام کیا جائے۔نتن گڈکری نے کہا کہ کچھ لوگ مسجد جاتے ہیں۔ کچھ مندر جاتے ہیں اور کچھ گوردوارے جاتے ہیں۔ مجھے آر ایس ایس کا گانا ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ ’’سنسکرتی سب کی ایک چرنتنا، پرکھے جس کے ہندو ہیں، ویرات ساگر سماج اپنا، ہم سب اس کے بندو ہیں‘۔ ہم سب ایک سماج، ایک پریوار کا حصہ ہیں اور ہمیں ہر مذہب کا احترام کرنا چاہئے اور معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی سوچ یہ ہے کہ ہم ’بھارتیہ‘ ہیں، جو ہندوستان کو ایک ’سپر اکنامک‘ طاقت بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ چھوٹے واقعات معاشرے کے لیے اچھے نہیں ہیں، ہمیں وسیع تر دلچسپی کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ ہم اس معاشرے کو کیسے چلائیں گے اور اس ملک کو عظیم بنائیں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ لوگوں سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص اپنی ذات، مذہب یا جنس کی وجہ سے عظیم نہیں ہوتا۔ وہ اپنی خوبیوں کی وجہ سے عظیم ہیں، ہمیں معاشرے میں اچھی خوبیوں کی حمایت کرنی ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ کرناٹک میں حجاب کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جمعرات کو سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ابھی ہم اس معاملے میں کیوں کودیں۔ ہائی کورٹ کو پہلے فیصلہ کرنے دیں۔ اس معاملے میں وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے عرضی دی تھی۔ ان کی دلیل تھی کہ یہ معاملہ اب پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔ امتحانات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں اس معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت ہونی چاہیے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ اب ہائی کورٹ کو اس معاملے کی سماعت کرنے دیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ہم آگے کیا کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مزید سماعت کی تاریخ دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔