بنگلورو:۔دہلی کے لال قلعے پر بھگوا(کیسری) جھنڈا لہرانے کے ایشورپاکے بیان پرآ ج ودھان سودھاکے دونوں ہی ایوانوں میں شدید مخالفت ہوئی،جبکہ اسمبلی میں ایشورپااور ڈی کے شیوکمارکے درمیان صیغہ واحد( سنگیولر) میں لغوی جھڑپ ہوئی،جس کے بعد ہاتھا پائی کی نوبت بھی آئی اور ان حالات کو قابو میں لانے کیلئے مارشلس کا استعمال کیاگیا۔آج ریاستی وزیر ایشورپاکے خلاف اپوزیشن لیڈر سدرامیابات کررہے تھے،اس دوران ڈی کے شیوکمارنے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ قومی پرچم کی بے عزتی کرنے والے ایشورپا غدارہیں،انہیں اسمبلی میں بات کرنے کاموقع نہ دیاجائے،اس پر ایشورپانے کہاکہ یہ تمہارےباپ کا گھر یا املاک نہیں ہے،اس پر ڈی کے شیوکمارنے پوچھا کہ کیا تیرے باپ کی جائیدادہے۔اسی موقع پر ایشورپانے شیوکمارکو للکار تے ہوئے کہاکہ طاقت ہے تو سامنے آ۔اس کے بعد شیوکمارنے بھی چلّا کر برہمی کااظہارکیا۔اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہوئی،برہم کانگریسی اراکین اسپیکر کے سامنے والےکنویں میں اُترآئے اور ایشورپاکے طرف بڑھنے لگےاورفوری طور پر بی جے پی کے اراکین بھی ایشورپاکے تحفظ میں اُترآئے۔حالات کو بگڑتا دیکھ کر اسپیکر کاگیری نے فوری طو رپر ظہرانے کے وقفے کا اعلان کیااور حالات کو قابومیں کرنے کی کوشش کی،ساتھ ہی ساتھ ودھان سودھاکے مارشل بھی آگے آئے اور طرفین کو قابومیں کرنے کی پیش رفت کی۔باوجود اس کے لمبے وقفے تک ایک دوسرے پر نعرے بازیاں ہوتی رہیں ۔ دوسری طرف کانگریس کے اراکین اسمبلی بھیرتی سُریش،کمپلی گنیش، پرینگا کھرگےنے کہاکہ ایشورپا من مانی کرتے ہیں اور زبان درازی بھی کرتے ہیں،اُن کو سامنے لائیں،دیکھیں گے کہ کیا وہ ہمیں مارینگے؟اس دوران بی جے پی اراکین ایشورپاکی پہرےداری کرتے رہے۔حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی،ایشورپااور بی ایس یڈی یورپا نے بحث کی،وہیں کانگریس کے اراکین ایشورپاکے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انہیں معطل کرنے کامطالبہ کرتے رہے۔سابق وزیر اعلیٰ و اپوزیشن لیڈر سدرامیانے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ایشورپاکو فوری طور پر کابینہ سے برطرف کیا جائے کیونکہ انہوں نے قومی پرچم کی توہین کی ہے،ایشورپاکا بیان پورے میڈیااور اخبارات میں شائع ہواہےاور ہمارے قومی پرچم اور قومی ترانے کو سب دل وجان سےچاہتے ہیں اور یہ ہمارا قومی پرچم ہے۔لال قلعے پر قومی ترنگا لہرا رہاہے وہاں دوسرا پرچم لہرایانہیں جاسکتا ، مگر ایشورپانے9 فروری کو جو بیان دیاہے وہ ناقابل قبول ہے،چھ دن گذرنے کے باوجود ایشورپاکے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔اسی موقع پر ریاستی وزیر مادھو سوامی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ شیموگہ میں قومی پرچم ہٹاکر کیسری پرچم لہرانے کی بات کہہ کر آپ نے ہی حالات کو بگاڑاہے۔اس دوران وزیر داخلہ نے کہاکہ اپوزیشن حجاب کے معاملے کو لیکر پریشان ہیں،اس لئے ترنگے کے معاملے کو لیکر افواہیں پھیلا کر بدنظمی بڑھا رہے ہیں۔
