شیموگہ میں فسادات کے ذمہ داروزیر ایشورپا ہیں: طاہر حسین

اسٹیٹ نیوز
بنگلور:۔ شیموگہ شہر میں ہونے والےایک ہندونوجوان کے قتل کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے، ایف آئی آر درج ہونے سے قبل ہی وزیر کے ایس ایشورپا نے مسلمان غنڈوں نے قتل کیا ہے ایسا براہ راست الزام لگایا ہے یہ قابل مذمت ہے۔ ایشورپا کےاس بیان سے فرقہ وارانہ تشدد برپاء ہوا ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پامال کرنے کے پیچھے براہ راست ایشورپا ہی ذمہ دار ہیںاور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔اس بات کا مطالبہ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدراڈوکیٹ طاہر حسین نے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیموگہ شہر میں مقتول نوجوان کی آخری رسومات کے دوران فرقہ وارانہ تشدد برپاء ہوا ہے اوربڑے پیمانے پر گھروں اور دکانوں پر پتھراؤ کیاگیاہے۔ کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی ہےنوجوانوں کے ایک گروہ نےتصادم پھیلایا ہے۔شہر کے ماحول کو اس حدتک کشیدہ ہونااور بدمنی کیلئے براہ راست ایشورپا ہی ذمہ دار ہیں۔ ایشورپا کے بیان کی وجہ سے ہی ایسی ناگریز وارداتیں رونما ہوئی ہےانکا یہ رویہ غلط ہے۔طاہر حسین نے مزید کہا کہ ان کی اپنی حکومت ہونے پر بھی ایسے واقعات کو روکنے کے بجائے اشتعال انگیز بیان کے ذریعہ فرقہ وارانہ فساد مچانا قابل مذمت ہے ان پر کارروائی کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس قتل کے اصل مجرم جو بھی ہوں، انہیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے۔حکومت اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاست میںکہیں بھی ایسے واقعات رونمانہ ہونے پائے اس کیلئے سخت اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فسادات میں جن لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچاہے انہیں حکومت سے معاوضے ملنے چاہئے۔