
بجرنگ دل کے کارکن کی آخری رسومات ہوئی ادا،قتل کے ملزمان نے کی خودسپردگی ؛1400پولیس اہلکار شیموگہ میں تعینات،ہر طرف خاکی ہی خاکی،اسکولوں کو آج بھی تعطیل
شیموگہ:۔شیموگہ شہرمیں کل شام ہونے والے قتل کی واردات کے بعد دیر رات سنگھ پریوارسے تعلق رکھنے والے شر پسندوں نے یہاں کےنالبندواڑی میں موجود کچھ اقلیتی طبقے کے گھروں کو نشانہ بنایااور گھروں میں توڑپھوڑکی۔اس کے علاوہ گھروں کے سامنے کھڑی ہوئی سواریوں کو آگ لگائی۔اسی علاقے میںموجود ایک مذہبی مقام کو بھی نشانہ بنایاگیا۔مقامی ساکنوں کا کہناہے کہ ہر فسادمیںہمارے علاقے میں توڑ پھوڑکی جاتی ہےا ور نقصان پہنچایاجاتاہے،جس کی وجہ سے ہمارا جینا محال ہواہے۔کل دیر رات قریب چار بجے تک مشتعل گروہوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً گھروں پر حملے کئے گئے،کئی مقامات پر نعرے بازی بھی ہوتی رہی۔آج صبح ہرشا کی میت کو پوسٹ مارٹم کے بعد جب لواحقین کے حوالے کیاگیاتوہزاروں کی تعداد میں شامل سنگھ پریوارکے کارکنوں نےمسلم اکثریتی علاقوں سے جلوس نکالنے کی کوشش جسے پولیس نے ناکام کیا ۔ بجرنگ د ل کے کارکن ہرشا کے قتل کے بعد آج صبح سے ہی حالات بے قابو ہوگئے تھے ، شہرکے این ٹی روڈ پر جب ہرشا کی لاش جلوس کی شکل میں لائی جارہی تھی،اُس وقت جلوس میں شامل لوگوں نے مسلمانوں کی املاک پر شدید پتھرائو کیا ۔ حالات بے قابورہےاور جب یہ جلوس کلرک پیٹ پہنچا تو وہاں پر بھی قریب آدھے گھنٹے تک پتھرائو ہوتارہا ، اس عرصے میں دونوں طرف سے پتھرائو ہوتےرہے،جبکہ زیادہ نقصان اقلیتی محلوں میںمقیم لوگوں کوہوا۔اس جلوس کی رہنمائی میں بی جے پی کےکئی اعلیٰ لیڈران شریک رہے،جبکہ کئی ایک لیڈران ہندونوجوانوں کو بھڑکاتے رہے اور محلوں میں گھسنے کی تاکیدکرتے رہے۔ان حالات میں پولیس کیلئے بھی حالات کو قابو کرنا دشوار کن مرحلہ بن گیاتھا اور جابجا آگ زنی کی وارداتیں ہورہی ہیں۔تقریباً6 سے زائد مسلم اقلیتوں کو نشانہ بنایاگیاہے جو شدید طو رپر زخمی ہوئے ہیں۔اے ڈی جی پی مرگن سمیت کئی اعلیٰ افسران شیموگہ آئے ہوئے ہیں۔ آج ہونےوالی جھڑپوں میں صحافیوں سمیت متعدد افراد کو چوٹیں آئی ہیں،جبکہ کئی مکانات پر پتھرائو ہونے کی وجہ سے مکانات کو شدید نقصان پہنچاہے۔پی ٹی آئی کے فوٹو جرنلسٹ لنگن گوڈا،روزنامہ آج کاانقلاب کے ویڈیو جرنلسٹ محمد رفیع قادری کو بھی گہری چوٹیں آئی ہیں،اس سلسلے میں انہوں نے دوڈاپیٹے پولیس تھانے میںمعاملہ درج کروایاہے۔شہرکے سیگے ہٹی سے منسلک نالبندواڑی نامی علاقے میں جہاں پر مسلمانوں کے محدود مکانات ہیں،اُن مکانات کوکل رات شرپسندوں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا ، جس کے بعدمقامی لوگ خوف کے ماحول میں رہ رہے تھے۔اس علاقے میںچاروں طرف سے ہندوئوں کے مکانات ہیں،جس کی وجہ سے کچھ افراد پر مشتمل مکانات کو دوبارہ نقصان پہنچنے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے کنڑیگرا جنا پرا ویدیکے کے کارکنوں نے آج مقامی پولیس کا تعائون حاصل کرتے ہوئے بذریعہ امبولنس اس علاقے کی خواتین کومحفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا۔قریب 300 خواتین وبچے اس جگہ سے محفوظ مقام پر منتقل ہوئے ہیں،بعدازاں اس علاقے میں مزید تحفظ فراہم کرنے کیلئے پولیس افسروں سے درخواست کی گئی ہے۔کنڑیگرا جنا پرا ویدیکے کی جانب سے خواتین کو محفوظ مقام پر پہنچانے پر خواتین نے شکریہ اداکیاہے۔پچھلے چوبیس گھنٹوں سے شہرمیں جو دہشت کا ماحول بناہواتھا،اُس کے اہم ذمہ دار آج شام پولیس کے سامنے اپنے آپ کوسرینڈر کردیا ہے ۔ شہرمیں ہرشا نامی بجرنگ دل کے کارکن کو کل رات 9 بجے پانچ نوجوانوں نے قتل کردیاتھا،جس کے بعد سارے شہرمیں فرقہ وارانہ تشدد برپا ہواتھا،اطلاعات کے مطابق قاتلوں نے قتل کے بعد اپنے آپ کو پہلے محفوظ مقام پر رکھنے کی کوشش کی،بعدمیں دو نوجوانوں نے کل رات میں ہی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنے کی بات سامنے آئی ہے،جبکہ آج شام ہرشاکی آخری رسومات کے بعدشہرکے مضافاتی علاقے ہرکیرے کے پاس تین نوجوانوں نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا۔جملہ پانچ نوجوان قتل کی واردات کے سلسلے میں اب پولیس کی تحویل میں ہیں ۔ جن لڑکوں نے خود سپردگی کی ہے،اُن کی شناخت کاشف، ریحان،آصف عرف چکو،نہال اور افعان ہیں ۔ فی الحال ان لڑکوں سے پولیس پوچھ تاچھ کررہی ہے ۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ ارگا گنیانیدر کے مطابق اس سازش میں کسی بھی تنظیم کا ہاتھ نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کے چھوٹے گروہ کی سازش ہے ۔امام باڑہ میں دو گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں یہاں کے ماحول میں کشیدگی پھیل گئی اور حالات سنگین بنے رہے۔ پتھرائو کوروکنے کیلئے مجبوراً پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور گروہوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولی بھی چلانی پڑی اور آنسو گیس بھی چھوڑی گئی۔ پیچیدہ حالات کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے شیموگہ اور بھدراوتی کے حدودمیں آنے والے تمام اسکولوں و کالجوں کو اگلے دودنوں تک تعطیل دینے کا فیصلہ کیا ہے،البتہ شیموگہ شہرمیں اگلے دودنوں تک کرفیو نافذکیاگیاہے۔
