ایم ایل اے بنے رہنے کیلئے ایشورپا اور کتنے لوگوں کی جان لینگے:کے بی پرسنناکمار کاسوال

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ایشورپا اپنے آپ کو ایم ایل اے بنائے رکھنے کیلئے اور کتنے لوگوں کی جان لینگے۔یہ سوال کے پی سی سی کے ترجمان اور سابق رکن اسمبلی کے بی پرسنناکمارنے کیاہے۔انہوں نے آج پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ہندوئوں کی حفاظت کے نام پر ایشورپا ہندوئوں سے ووٹ لیتے ہیں لیکن خودایشورپاکے حامیوں میں شمار ہونے والے ہرشا کو تحفظ فراہم کر نے میں وہ ناکام رہے ہیں،خودہرشاکے اہل خانہ نے کے کہنے کے مطابق ہر شاکو دھمکیاں مل رہی تھیں تو ایشورپانے اسے کیوں تحفظ فراہم نہیں کروایا،اس کا مطلب واضح ہے کہ یہاں عام لوگ محفوظ نہیں ہیں۔اس معاملے کوعدالتی تحقیقات کے ذریعے سے بے نقاب کیاجاسکتا،لیکن وہ خودبھی این آئی اے کی جانچ کامطالبہ کررہے ہیں،ان کا یہ مطالبہ صرف لفظی نہ ہوبلکہ قانونی طورپر ہو۔مزید انہوں نے کہاکہ پُرتشدد واقعات سے قبل ہی ایشورپانے بیان دیاتھاکہ شہرمیں پُرتشددواقعات کے پیچھے باہرکی طاقتوں کا ہاتھ ہے،جب انہیں اس بات کاعلم تھا تو انہوں نے اس کی اطلاع پولیس کو کیوں نہیں دی ہے،کل ہونے والے پُر تشددواقعات سے جونقصانات ہوئے ہیں اُس کی بھرپائی ایشورپاکے ذریعے سے ہی کروائی جائے۔پرسنناکمارنے سوال اٹھایاکہ ان کے ایم ایل اے بنے رہنے کیلئے اور کتنے لوگوں کی یہ بلی لینگے،اس سے پہلے گوگل،وشواناتھ شیٹی اور اب ہرشاکی جان لی گئی ہے۔اپنے بیٹے کو اگلے اسمبلی انتخابات میں امیدواربنانے کیلئے کیاایسے تیاری کرنے کی ضرورت ہے،اگر ایساہے تو ممکن ہے کہ مزید ایسی جانیں جائینگی۔تحقیقات کے دوران ایشورپاکی مداخلت ہوگی تو انصاف نہیں مل سکتا،ہرشاکے اہل خانہ کے ساتھ ہم ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اُس کے اہل خانہ کو سرکاری نوکری دی جائے،جن دُکانوں کو نقصان پہنچاہے اُنہیں مالی امداددی جائےاور سواری مالکان اور ٹھیلہ گاڑیوں کے نقصانات کی بھی بھر پائی ہو۔شیموگہ میں پچھلے دودنوں سے ہونے والے پُرتشدد واقعات کے دوران پولیس نے قتل کے ملزمان کو گرفتارکرتے ہوئے اچھاکام کیاہے،مگر ساتھ ہی اس بات کابھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قتل کی سازش کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے اس کی بھی تحقیقات کی جائے۔