قرآن میں لفظ حجاب نہیں،”خُمُر”ہے: قرآن کے ہر لفظ پر عمل کرنا فرض ہے؛وکلاء نے پیش کئے دلائل
بنگلورو:۔کرناٹکا ہائی کورٹ میں آج حجاب کے سلسلے میں دسویں مرتبہ شنوائی ہوئی اور آج بھی ابتداء میں حجاب کی مخالفت کررہے کچھ وکلاء نے وکرم وبیتال کی کہانیاں جیسے غیر ضروری دلائل پیش کئے اور اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حجاب کا تذکرہ اسلام میں تو ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے۔جیسے ہی آج عدالت کی شنوائی شروع ہوئی اڈوکیٹ جنرل نے کیمپس فرنٹ آف انڈیاکے تعلق سے جو ایف آئی آر درج ہیں اُ س کی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی ، اس کے بعد اڈوکیٹ کرشناکمارنے اُڈپی کی کالج کے لکچررکی طرف سے وکالت پیش کرنے کی بات کہی اور کہا کہ کالجوں میں لکچررس سیکولر بنیادوں پر کام کررہے ہیں لیکن طلباء اس ماحول کوخراب کررہے ہیں،یہاں ذات پات کامدعہ لاکرتعلیم کو متاثرکیاجارہاہے،جبکہ حجاب کا معاملہ اور آرٹیکل25 کا معاملہ الگ الگ ہے،بھلے ہی قرآن میں حجا ب کے متعلق کہاگیاہےلیکن عرضی گذار ایک سیکولر تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ایجوکیشن آیکٹ کی شق7 میں کہاگیاہے کہ تعلیم کا مقصد مساوات،یکجہتی اور باہمی تال میل ہے،حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او میں کسی بھی مذہب کی توہین نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی روکاگیاہے،اس لئے عدالت حجا ب کے معاملے کو حکومت پر چھوڑ د ے ۔ اس کے بعداڈوکیٹ کیرتی سنگھ نے بھی اس معاملے میں اپنی رائے رکھنے کی کوشش کی،لیکن عدالت نے ان کی اپیل کو یہ کہتے ہوئے خارج کرتے ہوئے کہاکہ ان کی عرضی درست نہیں ہے۔اسی دوران عدالت نے میڈیاکے ذریعے سے حجاب پہننے والی لڑکی کا پیچھا کئے جانے کے پی آئی ایل کو بھی خارج کردیااور کہاکہ یہ پی آئی ایل کے زمرے میں نہیں ہے بلکہ انفرادی زمرے میں کی جانے والی شنوائی ہے۔اس کے بعد اڈوکیٹ اے ایم دارنے اپنی عرضی پیش کرتے ہوئے قرآن شریف میں حجاب کے سلسلے میں پیش کردہ آیتوںکا حوالہ دینے کی اجازت اور دستورکے مختلف شقوں کے ماتحت ہونے والے فیصلوں کوپیش کرنے کی اجازت طلب کی،جس پر عدالت نے منظوری دی۔اڈوکیٹ دارنے جسٹس زیب النساء قاضی کو متوجہ کرواتے ہوئے کہاکہ آپ قرآن کو سمجھ سکتی ہیں،انہوں نے بتایاکہ اسلام میں پانچ فرائض ہیں، جس میں پہلا فرض پانچ وقت کی نماز پڑھنایہ اور بات ہے کہ لوگ اس پر عمل کیسے کرتے ہیں۔دوسرا فرض زکوٰۃ کا ہے،تیسرا فرض وراثت کا حکم،چوتھا فرض روزہ رکھناہے،پھر چیف جسٹس نے پوچھاکہ پانچواں فرض کیاہے؟تو انہوں نے کہاکہ جناب پانچواں فرض حج ہے۔ادوکیٹ دارنے مزیدکہاکہ حجاب کالفظ قرآن میں نہیں ہے،لیکن حجاب کے متبادل الفاظ قرآن میں ہیں،میں قرآن کے اُن آیتوں کو یہاں پڑھنا چاہونگا۔پھر انہوں نے قرآن کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا،جس میں بتایاکہ "تم اپنے اوپر چادریں لٹکا لیا کریں،چہرے اور سینے کو ڈھانپ لیں،یہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے”۔ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ تمام بچیاں برقعے میں جائینگی بلکہ سر کو ڈھانپ کر، چہرہ اور سینہ چھپاکر،یہ اس لئے کہ لوگ متوجہ اور جازب نہ ہوں۔اڈوکیٹ دارنے کہاکہ یہ سب اسلام کی بنیادی چیزیں ہیں اور یہ اللہ کاحکم ہے۔ہم اس مٹی کے ہیں اور جس ملک میں ہیں اُس ملک کے قانون کے پاسدارہیں،لیکن اپنی عورتوں کو حجاب فیشن کیلئے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے پہننے کیلئے کہہ رہے ہیں،یہ ہماری بچیوں اور بہنوں کیلئے لازم ہے۔ہمارے مذہب میں دو چیزیں ہمارے لئے ضروری قرار دئیے ہیں،جس میں پہلا تعلیم حاصل کرنا اور دوسرا سر کو ڈھانپنا ہے۔جسٹس ڈکشت نے قرآن کی سورتوں کی تفصیلات طلب کی اور اسے تفصیل سے پڑھنے کی بات کہی،اڈوکیٹ دارنے سورۂ حزاب اورسورۂ غاشیہ کا حوالہ دیا۔مزید انہوں نے کہا کہ نبی ﷺکے دورمیں بھی دو بلین لوگ تھےتوانہوں نے بھی اس پر عمل کیا۔مسلمانوں کیلئے قرآن کے بعد پیغمبر محمدﷺکی باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے،اور پیغمبر محمدﷺنے مسلمانوں کو حجاب پہننے کی ہدایت دی ہے۔اگر ہم اپنے پیغمبر کی بات نہیں مانتے ہیں تو ہم مسلمان نہیں رہے گیں۔حج کے موقع پر مرداورعورتیں ایک ہی جگہ نماز پڑھتے ہیں،وہاں سب ایک ہیں ، باوجود اس کے عورتوں کو سر پر سے چارد ہٹانے کی اجازت نہیں ہے،یہ اللہ کاحکم ہے اگر ہم اچھی زندگی گذارنا چاہتے ہیں تو اس پر عمل کرنا ہوگا اور ہمیں یوم الحساب کا بھی سامنا کرناہے۔اس لئے ہم بہنوں ، مائوں اور بیٹیوں کو مشورہ دینگے کہ وہ حجاب پہنیں ۔ اس دوران عدالت نے ان سے آئینی حوالے بھی پوچھے ۔ اڈوکیٹ دار نے کہاکہ آرٹیکل25 جو بھارت کے دستور کی تمہید کا حصہ ہے،اُس کا حوالہ دیااور کہاکہ یہ معمولی ملک نہیں بلکہ جمہوری ملک ہے،اس بڑے ملک میں حجاب بڑا مسئلہ نہیں،چھوٹا مسئلہ ہے،اس کے پہننے سے صحت پر بھی کوئی اثرنہیں پڑیگا بلکہ انسان کی نظروں کو پاک کریگااور سینے کو ڈھانپنے سے عورت کی عزت بڑھتی ہے اور اس کے استعمال سے بداخلاقی بھی نہیں بڑھتی بلکہ اخلاقیات بڑھتے ہیں۔اتنا کہتے ہوئے اڈوکیٹ دارنے کہاکہ یہ ہندو راشٹرنہیں ہے بلکہ یہ سیکولر ملک ہے،سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہماراہے،اس لئےحجاب کے پہننے کوآسان کیا جائے ۔ اڈوکیٹ دار کی بات کو جسٹس ڈکشت نے خواب سراہا ۔ اس کے بعدبھنڈارکر کالج کے وکیل اڈوکیٹ احمدنے عدالت میں اپنی عرضی دائرکی،اس کے ساتھ ساتھ اڈوکیٹ سبھاش جھانے بھی عرضی دائرکرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی بات کہی لیکن عدالت نے اسے مستردکردیا۔آخرمیں اڈوکیٹ کامت نے اپنے دلائل دوبارہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملے کو طویل لے جایاجارہاہے،سی ڈی سی کی کوئی بنیادہی نہیں ہے،گورنمنٹ آرڈرمیں شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کیاجارہاہے،ایم ایل اے کی تشکیل شدہ کمیٹی کو کالج کے معاملات میں مداخلت کرنے کےا ختیارات نہیں ہیں اور وہ ریاستی حکومت کاافسرنہیں ہوتاہے،اس لئے گورنمنٹ کے جی او کو مسترد کردیا جائے تاکہ طلباء اطمینان سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ اس بات پر کیسے دبائو ڈال سکتے ہیں کہ حجاب پہننے کی اجازت دی جائے جبکہ ادارے میں طئے شدہ یونیفارم ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ بنیاد حق ہےاور اس بات کو ہم سمجھنا چاہ رہے ہیں،یہ بھول جائیں کہ اڈوکیٹ جنرل نے کیا کہا ، پہلے آپ اپنے حق کو ثابت کردکھائیں۔اس پر اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ ہم حق نہیں جتا رہے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ حجاب پہننے کو ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ،جبکہ تعلیمی ادارے میں طئے شدہ یونیفارم ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ بنیادی حق ہے،تو آپ کہیں کہ بنیادی حق کیا ہے؟اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ میں یہ کہنا چاہونگا کہ ریاست یہ سوال نہ کرے،اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ریاست کوبھی بھول جائیں اور آپ اپنی بات کہیں۔اس پر اڈوکیٹ کامت نے آرٹیکل25 کو سُنایا اور کہاکہ اس میں ضروری اور غیر ضروری عمل کو ظاہرکیاگیاہے،ساتھ ہی ساتھ بیجوں ایمنوال کیس میں سپریم کورٹ نے طلباء سے یہ نہیں پوچھا کہ تمہارا حق کیاہےبلکہ یہ پوچھاتھاکہ تمہاری پابندی کیاہے۔یہاں ریاست میں قانون کو ہی پلٹ کر رکھاہے۔ایجوکیشن آیکٹ میں مذہب میں تبدیلی لانے کی بات نہیں کہی ہے،بلکہ سماجی تبدیلی لانے کی بات کہی ہے،جو آرٹیکل 25 کی شق2 میں ظاہرکی گئی ہے اور انہوں نے کہاکہ اگرسرکاری وکیل آرٹیکل19 کو نافذ کروانا چاہتے ہیں تو آرٹیکل25 تباہ ہوجائیگا۔اس کے بعد انہوں نے فرانس،ترکی کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیاہے۔چیف جسٹس نے پوچھاکہ کیا حجاب کالفظ قرآن میں استعمال کیاگیاہے تو اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ”خُمُر” یعنی اوڑھنی یا گھونگھٹ ہے اور اس کا تذکرہ حدیثوں میں بھی آیاہےا ور حدیث کاحوالہ مختلف عدالتوں میں کیاگیاہے،سائرہ بانوکے کیس میں جسٹس نریمن بھی حدیث کو اہمیت دے چکے ہیں اور میں نے تین فیصلوں کا حوالہ بھی دیاہے جس میں حجاب کو اسلامی عمل کا حصہ قرار دیاہے۔عدالت نے مزیدکہاکہ اس شنوائی کو جمعہ کو بھی جاری رکھاجائیگا۔اڈوکیٹ جنرل نے کیمپس فرنٹ آف انڈیاکے تعلق سے بند لفافہ پیش کیا۔
