لندن:۔کینیڈا نے پودوں اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ انسداد کورونا ویکسین کی تیاری اور اس کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ اس طرح کینیڈا کورونا کی روک تھام کے لیے ہربل ویکسین استعمال کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ کینیڈا کے ریگولیٹرزنے جمعرات کو کہا کہ میڈیکاگو کی دو خوراک کی ویکسین 18 سے 64 سال کی عمر کے بالغ افراد کو دی جا سکتی ہے لیکن کہا کہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں ویکسین کے بارے میں بہت کم ڈیٹا موجود ہے۔یہ فیصلہ 24000 بالغوں کے مطالعے پر مبنی تھا جس میں معلوم ہوا کہ ویکسین COVID-19 کو روکنے میں یہ ویکسین 71 فیصد موثر ہے مگر یہ تفصیل کورونا کی اومیکرون شکل کے ظاہر ہونے سے پہلیسامنے آئی تھی۔اس کے ضمنی اثرات کم تھے جس میں بخار اور تھکاوٹ جیسے اثرات نمایاں ہیں۔میڈیکاگو پودوں کو زندہ فیکٹریوں کے طور پر وائرس نما ذرات اگانے کے لیے استعمال کرتا ہے جو وائرس کو کوٹ کرنے والے سپائیکی پروٹین کی نقل کرتا ہے۔ پودوں کے پتوں سے ذرات کو نکال کر صاف کیا جاتا ہے۔ اس میں برطانیہ میں تیار قوت مدافعت بڑھانے والا کیمیکل جسے برطانوی پارٹنر GlaxoSmithKline نے بنایا تھا انجکشن میں شامل کیا گیا تھا۔دنیا بھر میں بہت سی COVID-19 ویکسینز لانچ کی جا چکی ہیں۔ عالمی صحت کے حکام دنیا بھر میں سپلائی بڑھانے کی امید میں اضافی امیدواروں کی تلاش میں ہیں۔کیوبیک سٹی میں قایم میڈیکاگو کئی دیگر بیماریوں کے خلاف پودوں کی ویکسین تیار کر رہا ہے اور ایک کوویڈ۔-19ویکسین طبی تیاری کے اس نئے طریقے میں مزید دلچسپی پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔
