شیموگہ:۔شیموگہ شہرمیں پچھلے دنوں ہرشاکے قتل کے بعد فسادات ہوئے تھےان فسادات میں سب سے زیادہ نقصان اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کاہوا ہے ، باوجود اسکے مسلمانوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔جس کانگریس پارٹی کو مسلمان اپنا ہمدرد ،ہمنوا اور سیکولر مانتے ہیں اُس پارٹی کے ریاستی لیڈروں نے تو شیموگہ کے مسلمانوں کی طرف رحم کی ایک نظر ڈالنے کی بات تو دور ان کے حال و احوال جاننے کیلئے تک کوشش نہیں کی۔البتہ بنگلورومیں کچھ سوشیل میڈیا کے نمائندوں کوبلاکر ہلکی پھلکی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنا حق اداکرنے کا نظارہ پیش کیا۔وہیں دوسری جانب شیموگہ ضلع کانگریس بھی کچھ کم نہیں ہے ۔ ہرشاکے اہل خانہ سے ملاقات کیلئے ضلعی صدر ایچ ایس سندریش، ضلع پنچایت کے سابق صدرکلگوڈ رتناکر،این رمیش سمیت کئی لیڈران پہنچے اور ہرشاکے اہل خانہ سےاظہارِ تعزیت پیش کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس پارٹی ان کے ساتھ ہےاور کسی بھی طرح کی مددکیلئے تیارہیں۔کسی میت کے گھر تعزیت دینا بُری بات نہیں ہے،ہرشاکے گھر سے محض تین سومیٹرکی دوری پر نالبندواڑی محلہ ہے،جہاں پر مسلمانوں کے درجنوں گھر ہیں،ان تباہ شدہ مکانات کو دیکھنا بھی کانگریس پارٹی نے گوارانہیں کیا ہے ۔ پیر کے دن ضلع کانگریس دفترمیں جس وقت پریس کانفرنس ہورہی تھی تو ضلعی صدر سے یہ سوال کیاگیاکہ کیا کیوں نہیں کانگریس نے مسلم محلوں کا دورہ کیا؟۔اس پر انہوں نے کہاکہ ہم اپنے اعلیٰ لیڈروں کے انتظارمیں ہیں جیسے ہی وہ آئینگے تو وہاں کا رخ کرینگے۔دریںا ثناء ضلع کانگریس کے ایک وفدنے آج دوپہر آزادنگر اور کلر پیٹ میں دورہ کیا،حالانکہ یہ علاقہ زیادہ متاثرہونے والاعلاقہ نہیں ہے اور نہ ہی حساس علاقہ قراردیاگیاہے،جبکہ لالبندواڑی حساس علاقوں میں شمار ہوتاہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ ضلع کانگریس کا وفد جہاں آگ ہے وہاں بجھانے کا کام نہیں کررہاہے بلکہ جہاں تواگرم ہے وہاں سے اپنے ہاتھ سینکھنے کاکام کررہی ہے۔
