انتخاب سے عین قبل انتہاپسندتنظیموں کوکروڑوں کی ادائیگی پرالیکشن کمیشن تماشائی; منی پورکے الیکشن پرکانگریس کاالزام،سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کافیصلہ

نیشنل نیوز
امفال:۔کانگریس نے منی پور انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کوسپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کافیصلہ کیاہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہاہے کہ منی پور اسمبلی انتخابات سے عین قبل ریاستی حکومت کی جانب سے ممنوعہ انتہا پسند تنظیموں کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کی گئی تھی،جسے الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں سمجھا۔ پارٹی اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔منی پور کے کانگریس کے سینئرمبصرجے رام رمیش نے ٹویٹ کیاہے کہ الیکشن کمیشن نے حیرت انگیز طور پر، یکم فروری اور یکم مارچ کو کالعدم انتہا پسند تنظیموں کو منی پور حکومت کی طرف سے کی گئی ادائیگیوں کے لیے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی نہیں کی ہے۔ میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر رہا ہوں۔جے رام رمیش نے دعویٰ کیاہے کہ یہ ادائیگی ایک طویل وقفے کے بعد انتخابات کے وقت کی گئی تھی اور اس سے ریاست کی 11 اسمبلی سیٹوں پر انتخاب متاثر ہواہے۔ کانگریس کے وفد نے جمعہ کو کمیشن سے اس معاملے اور کچھ دیگر موضوعات پر شکایت کی ہے۔ اس وفد میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش اور سلمان خورشید شامل تھے۔کمیشن کے سامنے اپنا کیس پیش کرنے کے بعد جے رام رمیش نے کہاہے کہ ‘یکم فروری کو تقریباً 15 کروڑ روپے اور یکم مارچ کو تقریباً 95 لاکھ روپے انتہا پسند تنظیموں کو ادا کیے گئے۔ طرز عمل منی پور اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 28 فروری کو ہوئی تھی۔ دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ ہفتے کو ہو رہی ہے۔