از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کرناٹکا ہائی کورٹ نے حجاب کے تعلق سے جو فیصلہ سُنایاہے اُس فیصلے کوہم صرف فیصلہ نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے متنازعہ فیصلہ کہاجاسکتاہے۔اس فیصلے کےتعلق سے توقع کی جارہی تھی کہ عدالت کومعاملے کومنفی طور پر پیش کریگی اورجس طرح سے بابری مسجد کا فیصلہ سنایاگیاتھاکہ زمین بابری مسجدکی ہے،بابری مسجد مسلمانوں کی ہے،باوجود اس کے یہ عقیدت کا سوال ہے ،اس لئے اس زمین کو رام مندربنانے کیلئے دیاجائیگا۔اسی طرح سے کرناٹکا ہائی کورٹ سے طالبات نے یہ سوال کیاتھاکہ حجاب پہننے کیلئے ہمیں موقع دیا جائے اور حجاب کو روکنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔لیکن عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ حجاب اسلام کا حصہ نہیں ہے اور یونیفارم کے ساتھ ہی طالبات کو کالج جاناہوگا۔جبکہ طالبات نے یہ نہیں پوچھاتھاکہ کیا حجاب اسلام کا حصہ ہے،یا پھر یونیفارم پہن کرہم کالج نہیں جائینگے۔یہ تو ایسی بات ہوئی کہ کسی نے پوچھا کے کھانا کھا چکے کیاتوجواب ملاکہ کپڑے گندے ہیں۔بہر حال کرناٹکا ہائی کورٹ پر بھی شائدکچھ دبائو رہیں ہونگے،کچھ مجبوری رہی ہوگی یا پھر دلائل کو سمجھنے میں دشواری رہی ہوگی۔اب اُمت مسلمہ کے ہر پُرجوش،شعلہ بیان،باہمت اور غوروفکر کرنے والےلوگ غور سے سنیں۔ہم نے بہت پہلے یہ کہاتھاکہ یہ حجاب کا مسئلہ نہایت نازک ہے،اس معاملے میں سیاست کرنے،طاقت دکھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،تنظیمیں اپنے معاملات کو شریعت سے ہٹ کر پیش کریں۔جب یہ بات ہم نے کہی تھی تو کچھ لوگوں نے ہم سے سوال کیاتھاکہ کیا تم مسلمان ہو؟کیا تمہیںمسلمانوں کے حجاب کی فکرنہیں جو احتجاج کرنے سے روک رہے ہو؟ہم احتجاج کرنےو الوں میں سے ہیں،جدوجہد کرنا ہمارا فریضہ ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے بچوں سے لیکر بڑے تک شعلہ بیان بن گئے،زبان کے مجاہد کہلانے لگے،دلیلوں کے شہسوار بن گئے تھے۔آج بہت ہی چالاکی کے ساتھ سنگھ پریوارنے حجاب کی بازی مارلی ہے۔جو معاملہ چاردیواری میں رہ کر حل کیاجا سکتا تھا ، یا پھر طالبات کو حکمت کے ساتھ سلجھانے کی تجویز دے سکتے تھے،انہوں نے آج سارے ملک کی مسلم بیٹیوں کو مشکل میں ڈال رکھاہے۔جو لوگ کل تک نعرے بازی اور جانبازی کے دعویدارتھے آج وہ خاموش بیٹھ چکے ہیں۔اگر آج کورٹ میں فیصلہ حجاب کے حق میں آتاتو یقین مانئے کہ یہ لوگ ارطغرل،ٹیپوسلطان اور جذباتی میوزک کا سہارلیکر اپنی پبلسٹی کی کوئی کسرنہیں چھوڑتے۔لیکن آج عدالت نے انہیں اس سنہرے موقعے سے محروم کردیاہے۔ہر کام جذبات کے سہارے نہیں کیاجاسکتا اور ہر کام کیلئے حکمت کا حوالہ لیکر خاموش نہیں بیٹھا جاسکتا۔مگر ہمارے یہاں موقع ومحل کی پہچان ہی نہیں ہوپائی ہے۔بہر حال طالبات کیلئے یہ ایک پیغا م یہ ہے کہ جس طرح سے حجاب ضروری ہے،اُسی طرح سے تعلیم حاصل کرنا بھی بے حد ضروری ہے،بیشترطالبات یہ فیصلہ لے رہی ہیں کہ اگر حجاب نہیں تو تعلیم نہیں،اگر حجاب نہیں تو امتحان نہیں۔یقیناً یہ جذبہ قابل ستائش ہے،مگر طالبات حجاب کو بنیاد بنا کر تعلیم کو نہ چھوڑیں،بلکہ میدان میں رہ کر حالات کامقابلہ کریں،کیونکہ امتحان ہی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ہے،آپ ثابت کردکھائیں کہ ہم حجاب کے بغیر بھی شیرنی ہیں اور حجاب کے ساتھ بھی شیرنی ہیں جو لڑنا جانتی ہیں،پیٹھ دکھا کر جانا ہماری ملت کا شیوہ نہیں ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس بات پر بھی توجہ دیں کہ آئے دن نت نئی تنظیمیں گمراہ کرتے ہوئے آپ کو اپنے تعلیمی میدان سے ہٹائینگی،ان تنظیموں سے دور رہیں،آپ کا مستقبل آپ کیلئے ضروری ہے اورآپ ہی اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
