ہوائی جہازمیں کرپان اورسکھوں کوپگڑی کی اجاز ت ; دوسری درخواست گزارنے عدالت کارخ کیا

سلائیڈر نیشنل نیوز
بنگلورو:۔کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب کے معاملے پرفیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ دوسری طرف کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی منگل کو ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کیاگیاہے۔ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ اس میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی (اسٹے) کا مطالبہ کیاگیاہے۔ یہ درخواست ایک مسلم طالبہ نبا ناز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ لیکن یہ لڑکی ان 6 درخواست گزاروں میں شامل نہیں ہے، جنہوں نے حجاب کو لیکر ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ حجاب کے معاملے پر ہندوسینابھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں کیویٹ دائر کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے کوئی حکم دینے سے پہلے ان کی عرضی پرسماعت کی جانی چاہیے۔ ہندو سینا کے نائب صدر سرجیت سنگھ یادو نے وکیل ارون سنہا کے ذریعے یہ کیویٹ داخل کرایا ہے۔ نبا ناز کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ حجاب پہننے کا حق بنیادی حقوق میں آتا ہے۔ حجاب پہننے کا حق مذہبی آزادی، رازداری کے حق، زندگی کے حق اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کے تحت محفوظ ہے۔ اسلام پرعمل کرنے کے لیے حجاب پہننا لازمی ہے۔ ہندوستانی قانونی نظام واضح طورپرمذہبی علامات کے پہننے / اٹھانے کو تسلیم کرتا ہے۔ سکھوں کو پگڑی پہننے کے دوران ہیلمٹ پہننے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اور ہوائی جہاز میں کرپان لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔