دہلی:۔سپریم کورٹ نے کہا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے مدد کے خواہشمند شہریوں کو اس بنیاد پر پابندی عائد نہیں کی جانی چاہئے کہ وہ ایک غلط شکایت کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ کورونا وائرس کے وبا کی دوسری لہر قومی بحران ہے۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اور جسٹس ایس رویندر بھٹ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کہاکہ معلومات ہموار ہونی چاہئے۔عدالت عظمی نے مرکز، ریاستوں اور تمام ڈائریکٹرز جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ انٹرنیٹ پر آکسیجن، بستر اور ڈاکٹروں کی کمی کو پوسٹ کرنے والے کسی بھی شخص پر افواہیں پھیلانے کے الزام میں کوئی کارروائی نہ کی جائے۔بنچ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر پریشان شہری کی ایسی کسی پوسٹ پر کارروائی کی جاتی ہے تو ہم اسے عدالت کی توہین مانیں گے۔عدالت نے کہاکہ ڈاکٹروں اور صحت کے کارکنان کو بھی علاج کے لئے اسپتال میں بستر نہیں مل رہے ہیں۔بنچ نے کہا کہ ہمیں 70 سالوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی جو وراثت ملی ہے وہ ناکافی ہے اور صورتحال خراب ہے۔عدالت عظمی نے کہا کہ کووڈ 19 مریضوں کی دیکھ بھال کے مراکز بنانے کے لئے ہاسٹل، مندر، گرجا گھر اور دیگر مقامات کو کھولنا چاہئے۔
