اب وقت آچکا ہے کہ قوم اپنے تعلیمی ادارے قائم کرے : سید سیف اُللہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
داونگیرے :۔ ملت تعلیمی ادارہ جات کے بانی سید سیف نے حجاب سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلہ پراپنا ردِ عمل ظاہر کیا اور کہا کہ ملک و ریاست میں مسلم قوم کو تعلیم سے دور کرنے کی فرقہ پرستوں کی کوششوں کے حوالے سے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ قوم اپنے تعلیمی ادارے قائم کرے ،جس کے لئے قوم کے پاس وقف کی بے شمار جائیدادیں بھی ہیں ،تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کے میدان میں بھی اپنے اداروں کا قیام ضروری ہے ،قوم میں زراعت پیشہ ،تعلیم یافتہ ،سرمایہ دار ،سیاسی شعور رکھنے کے علاوہ وظیفہ یاب تجربہ کار  با صلاحیت افراد کی کمی نہیں ہر کسی کو اپنی صلاحیتوں کے حساب سے کام لیتے ہوئے قوم کے اپنے ادارے ہوں تو روان دنوں میں عروج پر فرقہ پرست طاقتوں کا جواب دیا جاسکتا ہے ،ویسے جن طالبات نے اپنے حق کے لئے جو جد و جہد کی وہ یقینا لائق ستائش ہے جو ملک کے دستور اور مذہبی طور پر بھی اپنا حق تھا پردہ کرنا قرآن مقدس میں بھی  صریح  الفاظ  میں پردے کی تاکید آئی ہے جس کوعدلیہ نے سمجھنے میں یا پھر کسی وجہہ سے عدم توجہ کی جس کی وجہ ریاستی ہائی کورٹ میں حجاب سے متعلق  فیصلہ مسلم لڑکیوں کی مانگ کے برخلاف صادر ہوا جس کی قطعی اُمید نہیں ریاست کے مسلمان اور دستور ہند میں یقین رکھنے والےعدلیہ سے اُمید لگائے ہوئے تھے کہ پردہ چونکہ اسلام مسلمان کی شناخت کے علاوہ بھارت کی تہذیب و ثقافت کا بھی حصہ ہے ،ملک میں اکثر خواتین  پردے میں رہنے اور اپنے سر پر دوپٹہ (پلو) ڈالنے میں اپنی تہذیب سمجھتی ہیں ،اس کے باوجود عدالت نے نہ مذہب نہ دستور ،اور نہ ہی ملک کی تہذیب کو مدِ نظر رکھا  اس کے پیچھے کیا بات ہوسکتی ہے خود عدالت جانےایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ عدلیہ کے سامنے شرعی و دستور ہند کےاعتبار سے اپنا موقف رکھنے میں کہیں ہم میں ہی کوئی کمی بھی رہی ہو ،اس  اثنا میں امتحانات بھی سامنے ہیں ہمارے بچوں کو ورغلا کر تعلیم سے دور رکھنے کی بھی کوشش ہوگی میں  علماء ئے کرام سے رہنمائی کی اپیل کرتے ہوئے اپنی ناقص رائے کے ساتھ کہنا چاہونگا کہ طلباء اپنی محنت کو رائیگان جانے نہ دیں بلکہ کچھ وقت کے لئے حجاب کے بغیر ہی امتحانات میں حصہ لیں کہ دس بارہ سال کی محنت رائیگان نا ہوصرف امتحان گاہ میں ورنہ آپکی کی جو محنت ہے وہ بڑی ہے قوم کی بُشرا متیں نامی ایک لڑکی نے جو16 گولڈ میڈل حاصل کئے جو آئندہ تمام طالبات کیلئے ایک نشانِ راہ ہے اسی نشانِ راہ سے قوم کو دور رکھتے ہوئے یونفارم کے نام پر تعلیم سے دور کرنے کی جو کوشش ہے اُسے کسی صورت کامیاب ہونے نہ دیں ورنہ ہائی کورٹ سے تو فیصلہ صادر ہوچکا ہے اب ملک کی عدالتِ عظمیٰ سے رجوع ہونے کی کوشش ہورہی ہے ہونا بھی چاہیئے مگر اُمید نہیں اس درمیان عدالتِ عظمیٰ سے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگے لہذاء سپریم کورٹ  کے ذریعہ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگنے تک کے لئے ہمیں صبر اور احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے،اس کے بعد بھی ملک میں جو ماحول مسلمانو ں کے خلاف بنایا جارہا ہے اس سے قطعی اُمید نہیں کی جاسکتی کہ کیا ہوگا ،تمام اُمیدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیں اپنے طرز پر ایک مرتبہ غور و فکر کرتے ہوئے اپنا لالحہ عمل ازسرِنو ترتیب دینے اور اپنی قوم کو تعلیم حاصل کرنے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اس جانب توجہ کرتے ہوئے بے انتہاء موجود وسائل کا صیح استعمال کرتے ہوئے اپنے تعلیمی  اداروں کے ساتھ ساتھ اہسپتالوں کے قیام کی جانب بھی توجہ کرنی ہوگی جس کے لئے ہم نے پہل کرتے ہوئے اسی شبِ برات کے موقع پر قوم کو بیدار کر تے ہوئے اداروں کے قیام کی جانب ذہن سازی کی کوشش شروع کی اور شبِ برات کے موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ شادہی محل تو بہت ہوچکے ہیں اب تعلیمی اداروں کے قیام کی جانب  ہمیں کوشش کرنی ہوگی ہمارے پاس جتنے بھی ادارے ہیں یہ بہت پرانے ہیں نئی نسل کی جانب سے اب ادارون کے قیام کی کوشش ہونی چاہیئے ،ریاستی سطح پر وقف کی کمیٹی بھی ہے اور پوری کمیٹی میں بہترین افراد بھی ہیں نومنتخب چیرمن کا  ایک انٹریو  کچھ دن پہلے سامنے آیا جس میں تعلیم کی طرف وقف بورڈ کا رجحان ہے جس کو بات کی حد تک نا رکھتے ہوئے جلد از جلد کام کی طرف پلٹنا ہوگا ،مزید سید سیف اُللہ نے کہا کہ لڑکیوں میں تعلیم سے متعلق دلچسپی پائی جاتی ہے اور دُنیان نے دیکھا مسلم قوم کی لڑکیوں نے جس بے باکی سے اپنے حق کی لڑائی لڑی وہ لائق ستائش ہے مگر لڑکوں میں تعلیم کی جانب رغبت ضروری ہے ور نہ آئندہ دنوں میں لڑکے اور لڑکیا ن جب ازدوجی بندھن میں بندھیں گے تو تو ازن کا فرق یقینا مسائل لے آئے گا والدین کو چاہیے اپنے بچوں میں لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں کی تعلیم پر بھی توجہ دیں ،لڑکوں کو بھی چاہیئے کہ قوم کو سربلند رکھنے اور اپنا مستقبل سنوارنے کیلئے نشہ آوار چیزوں سےپرہیز کرتے ہوئے تعلیم کی طرف توجہ دیں تعلیم ہی قوموں کے عروج کا سبب بنتی ہے۔