مسلم تاجران کو جاترے میں کاروبار پر پابندی کے بارےمیں مجھے کوئی اطلاع نہیں :وزیر داخلہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو: ۔میلے اورجاترائوںمیں مسلم تاجروں کے کاروبارپر پابندیوں کے بارے میں مجھےکوئی اطلاع نہیں ہے۔ معلومات اکٹھا کرتے ہوئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان باتوں کا اظہار وزیر داخلہ ارگاگیانیندر نے کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں بنگلورو میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئےکہا کہ حجاب تنازعہ پر فیصلے کے بعد مسلم تاجروں نے اپنی دکانوںاورکاروبار کو بند کرتے ہوئے اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی ۔اس واقعہ کو آگے بڑھاتے ہوئے مندروں کے جاترے اور ہندوئوں کے میلوں میں مسلم تاجروں کو دکانیں کھولنے اورکاروبار کرنے پر پابندی عائد کئے جانے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست اقدام نہیں ہے۔ یہ افسوس کن ہےکہ امن و امان کے درمیان تجارت خراب نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں معلومات جمع کرنے کے بعد کارروائی کریں گےاور اسطرح کے واقع رونما نہ ہوںاس کیلئےپولیس نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ایکشن ۔۔ری ایکشن ۔۔ کا عمل جاری رکھنا درست نہیں ہے۔ دلوں کو توڑنے کا کام نہیں کرنا چاہیے۔معاشرے میں ایک ہوکر ان چیزوں کو درست کیا جانا چاہئے۔ واضح ہو کہ حجاب کا تنازع اب تجارتی جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے، مسلمان تاجروں کو جاترائوں اورمندروں کے میلوں میں کاروبار کرنے میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔کئی مندروں کے باہر مسلم تاجران( چھوٹے تاجروں) کی تجارت پر پابندی لگائے جانےکے بینر لگائے گئے جارہے ہیں، جس سے مسلم تاجروں، مسلم قائدین اور سیاسی قائدین میں غم و غصہ پایا جارہا ہے۔دکشن کنڑا ضلع کے مشہور مندربپاناڈو،دُرگا پرمیشوری مندرکے جاترے،میں مسلم تاجروںکوکاروبارپر پابندی عائد کرناکافی تنازعہ کا باعث بنا ہے۔اسی طرح شیموگہ کے مشہور کوٹے ماری کامبا میلے میں بھی مسلمان تاجروں کی دکانوں کو لگانے کیلئے پابندی عائد کی گئی ہے۔ مسلم تاجروں نے ان سے تجارت کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔ لیکن حال ہی میں بجرنگ دل کے کارکن ہرشاکے قتل کے بعد ہندو بدلہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مسلم تاجروں پر پابندی بنگلور کے نیلمنگا تک بھی پہنچ گئی ہے۔ مسلمانوں کو نیلمنگا مندر کےمیلے میں کاروبار کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔