لکھنؤ:۔دانش انصاری، جنہیں اتر پردیش حکومت میں واحد مسلم وزیرکے طور پر شامل کیا گیا ہے،کہتے ہیں کہ بطور وزیر ان کی تقرری غیر متوقع نہیں تھی،بلکہ پارٹی کے ایک وقف کارکن پر اعتماد کی علامت تھی۔ دانش نے وزیر مملکت کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ جس کے بعد انہوں نے کہاہے کہ یوگی حکومت میں وزیر کے عہدے پر میری تقرری ایس پی اور کانگریس کے منہ پر ایک بڑا طمانچہ ہے۔ دانش نے کہاہے کہ میں بہت خوش ہوں کہ مجھے موقع دیا گیا ہے۔ یوگی حکومت کی ہر اسکیم سے مسلمانوں کو فائدہ ہوا ہے۔ میں مسلمانوں کو ساتھ لانے کی کوشش کروں گا۔انہوں نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے کہاہے کہ میں اپنے جیسا ہوں۔ میں پارٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پارٹی کے ایک عام کارکن کو اتنا بڑا موقع دینے پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کروں گا۔جب دانش سے پوچھا گیا کہ کیا وزارتی عہدہ ملناغیرمتوقع تھاتوانہوں نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں تھا، پارٹی ہر کارکن کی محنت کو تسلیم کرتی ہے اور میرے لیے یہ پارٹی کی طرف سے دکھائے گئے بھروسہ کی علامت ہے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ بی جے پی میں مسلمانوں کا اعتماد بڑھ گیا ہے، بی جے پی کی طرف سے چلائی جانے والی فلاحی اسکیموں کا فائدہ مسلمانوں کو مل رہا ہے، یہ حکومت اسکیموں کا فائدہ دینے سے پہلے کسی کی ذات اور مذہب نہیں پوچھتی ہے۔دانش نے اپنی بات رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بی جے پی مسلمانوں کی بنیادی سہولیات اور ضروریات کے لیے کام کرتی ہے۔ دانش انصاری نے محسن رضا کی جگہ لی ہے، جو گزشتہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔32 سالہ دانش نے 2010 میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) میں شمولیت اختیار کی تھی جب وہ لکھنؤیونیورسٹی میں طالب علم تھے۔
