بنگلورو:۔سینئرکانگریس رہنما اور گدگ کے رکن اسمبلی ایچ کے پاٹل نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ملک میں تیار کی گئی 19 لاکھ ووٹنگ مشینیں غائب ہو چکی ہیں ۔ریاستی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کے متعلق بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر پاٹل نے کہا کہ 2016 کے دوران بی ای ایل کی طرف سے تیار کی گئی 19.64لاکھ ووٹنگ مشینیں ،ای سی آئی ایل کی طرف سے تیار کی گئی 9.27لاکھ ووٹنگ مشینیں اور بی ای ایل طرف سے تیار کی گئی 62 ہزار ووٹنگ مشینیں فراہم کی میں لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ان مشینوں کے بارے میں اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس انکشاف کے بعد ووٹنگ مشینوں کے متعلق اعتماد متزلزل ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن کے افسروں کو ایوان میں طلب کر کے اس بارے میں ان سے جانکاری حاصل کرنی چاہئے ۔مسٹر پاٹل نے کہا کہ اگر ان کا یہ انکشاف جھوٹ نکلا تو اس کی سزا کے لئے بھی وہ تیار ہیں ۔ اس معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسمبلی اسپیکر وشو یشور ہیگڑے کا گیری نے کہا کہ وہ اس معاملہ میں تمام تفصیلات فراہم کر یں ۔ اگرممکن ہو سکا تو اس پر وہ الیکشن کمیشن سے بات کر یں گے ۔ ایچ کے پاٹل نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹنگ مشینوں کے غائب ہو جانے کے الزامات کی وجہ سے ملک کے جمہوری نظام پر جوشبہ پیدا ہوا ہے، اس کے ازالے کیلئے الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہئے اور یہ واضح کرنا ہوگا ۔ اس مرحلہ میں بی جے پی رکن اروند بیلاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے ووٹنگ مشینوں کی معتبریت کی جانچ کرنےکیلئے عوام کو مدعو کیا لیکن کوئی نہیں آیا۔ اس کے جواب میں ایچ کے پا ٹل نے کہا کہ ایوان کے سامنے وہ جو معلومات رکھ رہے ہیں ان کی سچائی کے بارے میں ان کو پورا یقین ہے اور چیلنج کرتے ہیں کہ ان کی بات اگر غلط رہی تو اس کی سزا کا سامنا کرنے کے لئے وہ تیار ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے سیاسی جماعتوں کو ووٹنگ مشینوں کی جانچ کرنے کے لئے دی گئی دعوت کے بارے میں ایچ کے پاٹل نے کہا کہ کمیشن نے ضرور مشینوں کی جانچ کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا لیکن اس مشین کو جس تکنیک سے تیار کیا گیا ، اس کے ماہر تمام سیاسی پارٹیوں کے پاس نہیں ہیں ۔ الیکشن کمیشن کو کو اگر اپنی ووٹنگ مشینوں کے معتبر ہونے کا اتنا ہی یقین ہے تو آنے والے دنوں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم کے ماہرین کے ذریعے ان کی جانچ کروائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں اور بھی تفصیلات رکن اسمبلی پر یانک کھر گے کے پاس موجود ہیں ۔ اس مرحلہ میں پر یا نک کھر گے نے کہا کہ بی جے پی سے ہی وابستہ جی وی ایل نرسمہا راؤ نے اپنی کتاب میں ای وی ایم کو ہیک کئے جانے کی بات کہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب وہ ریاستی وزیر برائے آئی ٹی بی ٹی رہے تو اس وقت انہوں نے ووٹنگ مشینوں میں خامیوں کے بارے میں کمیشن کو دو بار مکتوب روانہ کیا تھا۔ اس مکتوب میں جن شبہات کا تذکرہ کیا گیا ان کا ازالہ کرنے کی بجا ئے کمیشن نے صرف ای وی ایم کا مینیول روانہ کر کے شہبات کا ازالہ کرنے کی ذمہ داری سے دامن جھاڑ لیا۔ اس مرحلہ میں سابق اسپیکر رمیش کمار نے کہا کہ ووٹنگ مشینوں کے کے غلط استعمال کے بارے میں شکوک کا ازالہ کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کے افسروں کو ایوان میں حاضر ہونے کے لئے سمن جاری کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں الیکشن کمیشن کو چھوڑ کر کسی اور ادارے کو مذکورہ کمپنیوں کی طرف سے مشینوں کی فراہمی ممکن ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر ہند سے حلف لینے والے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کو ملک میں غیر جانبداری سے کام کرنا چاہئے ،ان کے عہدے پر رہنے والوں کو جا بنداری دکھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
