ہمیں سکون سے جینے دیں،ہمیں کسی غیرملکی کی تعریف کی ضرورت نہیں:مسکان کے والد کا بیان

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک میں حجاب معاملہ میں تعلیمی ادارو ں میں فرقہ وارانہ ٹکراؤ کے ماحول میں اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر سرخیوں میں آنے والی منڈیا کی طالبہ مسکان زینب خان ایک بار پھر سرخیوں میں ہے اس بار فرقہ پرست تنظیموں نے اس کی طرف سے نعرہ تکبیر لگائے جانے پر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سرغنہ ایمن الظواہری کی طرف سے اس کی تعریف کرتے ہوئے ایک نظم پر مشتمل ویڈیو سوشیل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے پر ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔جس پر مسکان زینب خان کے والدمحمد حسین خان نے اس مبینہ ویڈیو کے منظر عام پر آنے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے حال پر جینے دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہمیں سکون سے رہنے دیا جائے- انہوں نے کہا کہ ظواہری کو ن ہے،وہ ان کو جانتے بھی نہیں، آج ہی ان کی تصویر انہوں نے پہلی مرتبہ دیکھی ہے – انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ہمارا سکون غارت کر رہے ہیں -انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی غیر ملکی کی تعریف کی کوئی ضرورت نہیں – وہ اپنے ملک کے معاملوں کو دیکھ لیں – ہم تمام طبقات کے لوگ اس ملک میں بھائی چارگی سے سکون کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں – انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہم لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں -ہمیں کسی کی تعریف کی کوئی ضرورت نہیں ہے – جس نے تعریف کی ہے وہ کون ہے ہم وہ بھی نہیں جانتے – انہوں نے کہا کہ عربی زبان میں اس شخص نے بات کی ہے- میڈیا کے ذریعے ہی ہمیں پتہ چلا ہے کہ اس نے تعریف ہی ہے – اس کا پس منظر کیا ہے وہ نہیں جانتے اس لئے وہ کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتے۔ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اشوتھ نارائن نے کہا کہ دہشت گردوں کی طرف سے اس طرح کے بیانات کی مذمت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے داخلی امور میں ان کو ٹانگ اڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ،حکومت کسی کے تئیں کوئی مخالفانہ رویہ نہیں رکھتی۔ سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم نے مسکان خان کے تعلق سے القاعدہ سرغنہ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسکان کو اس تنظیم کا نام بھی شاید معلوم نہیں ہے – یہ سب بی جے پی کی پیداوار ہے، اگر القاعدہ ہے تو فوری طور پر اس کے کارکنوں کو ڈھونڈ کر گرفتارکریں ، حکومت کو ایسا کرنے سے کس نے روکا ہے ۔ریاستی وزیر داخلہ اگا گیانیندار نے کہا ہے کہ القاعدہ کے سرغنہ نے جس طرح مسکان کی تعریف کی ہے اسے دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ اس سارے معاملہ کے پیچھے ان دیکھا ہاتھ ہو سکتا ہے اس کی جانچ ہونی چاہئے۔