از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کرناٹک میں اس وقت حالات دن بہ دن خراب ہوتے جارہے ہیں ، کسی دور میں امن و امان کا گہوارہ کہلوانے والا کرناٹک اب شرپسندوں کی شرارتوں سے بدنام ہونے لگا ہے اور ریاست میں قانون نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ اسمبلی انتخابات کے لئے جہاں سیاسی جماعتوں کو مدعوں ، امیدواروں اور لوگوں کے درمیان خوشحالی کی بنیادوں پر تیاریاں کی جانی چاہئے تھی وہیں سنگھ پریوار پوری طاقت کے ساتھ ریاست میں نفرت کی سیاست کررہاہے اور برسر اقتدار بی جے پی حکومت ریاست میں شرپسندوں کو نہ صرف بچارہی ہے بلکہ انہیں بڑھاوا بھی دے رہی ہے۔ ریاست میں حجاب ، حلال ، بین کی سیاست خوب پنپ رہی ہے اور اسے حکومت کی طرف سے پشت پناہی مل رہی ہے ۔ سب کچھ حکمرانوں ، پولیس اور انتظامیہ کے سامنے ہورہاہے ، کھلے عام توڑ پھوڑ ہورہی ہے ، بیان بازیاں ہورہی ہیں ، بھڑکایا جارہاہے اور اس سب کا اثر صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ پورے سماج پر ہورہاہے ۔ ایک طرف ریاستی حکومت مداری بن کر یہ سب حرکتیں کروارہی ہے تو دوسری طرف کانگریس پارٹی جوکرناٹک کی مضبوط اپوزیشن جماعت میں شمارہوتی ہے وہ تماشائی بن کر یہ سب دیکھ رہی ہے ، کانگریس پارٹی کی خاموشی یہ واضح کرتی ہے کہ وہ اس وقت سافٹ ہندوتوا کی راہ پر چل نکلی ہے ۔کانگریس پارٹی ریاست میں ہورہے نظم و نسق کے بگاڑ کے لئے منہ کھولنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے ۔جس طرح سے اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سماجوادی پارٹی سیکولر ہونے کا ڈھونگ رچتے ہوئے وہاں کے مسلمانوں کے مسائل پر آواز اٹھانے سے گریز کررہی تھی اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے باوجود خاموشی اختیار کرتے ہوئے ہندو ووٹوں کو اپنے سے قریب کرنے کی سوچ رہی تھی بالکل اسی طرح سے کانگریس پارٹی کرناٹک میں مسلمانوں کے مسائل پر بات کرنے سے گریز کررہی ہے ۔ سوائے سدھرامیا اور ملیکارجن کھرگے کے اور کسی لیڈر کی جانب سے اقلیتوں کے تحفظ کے تعلق سے بات نہیں ہورہی ہے یہاں کے تک کہ پردیش کانگریس کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے یہ کہہ دیا کہ حجاب کے سلسلے میںکانگریس پارٹی کے لیڈران کسی بھی طرح کا رد عمل نہ دیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ اس سب کے باوجود مسلمان اب بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کے لئے اچھے دن لائے گی ۔ بی جے پی جہاں کڑوا زہر اُگل رہی ہے وہیں کانگریس میٹھا زہر سماج میں گھول رہی ہے ۔ گھماپھرا کر مسلمان یہی سوال کرتے ہیں کہ ہمارے پاس اور دوسرا آپشن کیاہے ؟۔ آپشن ڈھونڈنے سے نکلتے ہیں نہ کہ سوالات کرنے سے ، مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزور ی یہی ہے کہ اب بھی سہی و غلط کی پہچان نہیں کرپارہے ہیں اور اپنی سیاست کو مدعوں پر کرنے کے بجائے ضرورتوں پر کررہے ہیں ۔ اگر اب بھی آنے والے سیاسی حالات پر غور نہیں کرینگے تو یقیناً حالات مزید بدتر ہوجائیں گے اسکے بعد انکا کوئی پرسان حال نہ ہوگا ۔
