کھرگون تشدد: دگ وجے سنگھ کیخلاف ایف آئی آر درج

نیشنل نیوز
بھوپال:۔ کھرگون مسلم کش فساد کے تناظر میںسابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ کے ٹویٹ پر بھوپال کرائم برانچ نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ دگ وجے سنگھ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 58/22، u/s 153A(1)، 295A، 465 505(2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دگ وجے سنگھ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا تلوار اور لاٹھی سے کسی مذہبی مقام(مسجد) پر جھنڈا لگانا مناسب ہے؟ کیا کھرگون انتظامیہ نے اجازت دی تھی؟ لیکن وہ تصویر کھرگون یا ایم پی کی نہیں ،بلکہ بہار کے  مظفر پورضلع کے محمد پور نامی گاؤں کی تھی، جہاں رام نومی کے موقعہ پر سماج دشمن نے مسجد کے صدر گیٹ پر جا کر زعفرانی پرچم نصب کیا تھا۔تاہم غلطی کا احساس کرتے ہوئے انہوں نے فوری طور پر اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دیا، لیکن اس ٹویٹ کے بعد بی جے پی نے دگ وجے کو گھیر ا گیا۔ اب کرائم برانچ نے اس معاملے میں تفتیش شروع کر دی ہے۔ دگ وجے سنگھ کے خلاف دو فریق میں مذہبی تشدد پھیلانے، جعلی مواد کے استعمال، عوام میں افواہیں پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بھوپال میں بی جے پی کارکنان کرائم برانچ پہنچ کردگ وجے سنگھ کے خلاف شکایت کی۔ پرکاش پانڈے کی شکایت پر دگ وجے سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ کے اس ٹویٹ پر شدید اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ ڈگ وجے سنگھ ریاست میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ وہ ریاست کو فسادات کی آگ میں جھونکنے کی سازش کر رہا ہے۔ اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کابینہ کی میٹنگ میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے ڈگ وجے سنگھ پر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر اور پوسٹس پر مذہبی تشدد پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔بی جے پی کے ریاستی صدر بی ڈی شرما نے دگ وجے سنگھ کی سوشل میڈیا پر کی گئی متنازعہ پوسٹ کو بین الاقوامی سازش کا حصہ قرار دیا تھا۔