شیموگہ:۔(خصوصی رپورٹ : مدثر احمد شیموگہ ) مرکزی حکومت پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) تنظیم پر پابندی عائد کرنے کی تیاری کررہی ہے ۔اس تنظیم پر الزام ہے کہ وہ ملک کے مختلف مقامات پر تشدد اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے لئے کیرلا واقع تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کو ہی ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ اطلاع ہے کہ پی ایف آئی پر پابندی لگانے کو لے کر حکومت اسی ہفتے فیصلہ لے سکتی ہے۔ مرکز نے کہا کہ پابندی سے جڑی ساری تیاری پوری ہوچکی ہے اور جلد ہی اس سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا جاسکتا ہے۔حالانکہ ماضی میں کئی ریاستوںنے پی ایف آئی پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں قانونی شکست ہوئی ہے ۔ اب پھر سے آنے والے دنوں میں کچھ ریاستوں کے انتخابات کے مدنظر بھارت کے شہریوں کو گمراہ کرنے کیلئے بی جے پی حکومت نے پی یف آئی کو مدعا بنایا ہے ۔دراصل پی یف آئی کا قیام سال 2006 میں کیرلا میں ہوا تھا اب اس تنظیم کی شاخیں کم و بیش بھارت کے ہر حصے میں ہیں ۔ ایک طرف پی یف آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی جمہوریت کو فاشسٹ طاقتوں سے بچانے کی کوشش میں ہے اور وہ ڈیماکریسی کو بحال کرنے کے لئے جدو جہد کررہی ہے تو دوسری جانب فاشسٹ طاقتیں پی یف آئی کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں ۔ بھارت میں اس وقت مسلمانوں کی کیڈر بیس کوئی طاقتور تنظیم ہے تو وہ صرف پی یف آئی قرار دی گئی ہے جس کے پاس لاکھوں کی تعداد میں کیڈر س ہیں ۔ پی یف آئی نہ صرف فاشسٹ طاقتوں کے خلاف لڑنے کا دعویٰ کررہی ہے بلکہ اس کے ماتحت ویمنس ونگ ، اسٹوڈینٹس وینگ ، علماء وینگ بھی ہے جو اپنے اپنے شعبوں میں کام کررہے ہیں ۔ خیال کیا جاتاہے کہ پی یف آئی کو صرف بی جے پی ہی ختم کرنا نہیں چاہتی ہے بلکہ کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی یہ ہضم نہیں ہورہے ہیں اسکی ایک ہی وجہ ہے کہ اب تک جو مسلمان ووٹ بینک کے نام پر ان سیاسی جماعتوں کو قربانیاں دے رہا تھا وہ اب کانگریس جیسی سیکولر جماعتوں سے بھی دور ہونے لگے ہیں اور مسلمانوںکو اس تنظیم سے دورکرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ۔پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری انیس احمد نے کہا کہ تنظیم نے ملک کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا ہے اور اگر حکومت نے اس پر پابندی عائد کرنے کی کوشش تو وہ قانونی اداروں سے رابطہ کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’حکومت ہم پر پابندی نہیں عائد کرسکتی، ہم نے ملک کے خلاف کچھ نہیں کیا ہے۔ اگر حکومت ہم پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ہمارے پاس جمہوری اور قانونی اداروں سے رابطہ کرنے کا راستہ کھلا ہے۔پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی تشکیل سال 2006 میں ہوئی تھی اور اس کا ہیڈ کوارٹر دہلی میں ہے۔ مرکزی جانچ ایجنسی ملک میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی مخالفت میں احتجاج کو بھڑکانے، دہلی کے فسادات اور کئی دیگر معاملوں میں پی ایف آئی کے مبینہ ’مالی وابستگی‘ کی جانچ کر رہی ہے۔بھارت میں آزادی کے بعد کئی مسلم تنظیموں نے جنم لیا ہے جن کے بڑھتے ہوئے رحجان کو دیکھتے ہوئے وقتاََ فوقتََا حکومتیں پابندیاں عائد کرتی رہی ہیں ۔ اس وقت پی یف آئی پر پابندی عائد کرنے کی جو تیاریاں ہورہی ہیں وہ خالص اس وجہ سے ہے کہ اس میں مسلم نوجوانوں کا بڑا طبقہ جڑ رہاہے ۔ جب بات تشدد اور ہنساکی ہوتی ہے توملک میں پی یف آئی سے زیادہ بجرنگ دل ، آر یس یس ، شیوسینا جیسی تنظیموں نے کھلے عام بوال کھڑا کیا ہے اور ملک کی یونیٹی اور پیس کو ختم کرنے کے لئے ہر دن کسی نہ کسی واردات کو انجام دے رہے ہیں ۔ کیرل ، تمل ناڈواور اتر پردیش میں اب تک کئی ایسی وارداتیں نوٹ کی گئی ہیں جس میں آر یس یس اور بجرنگ دل کا کھلے عام دہشت پھیلانے میں ہاتھ رہاہے ۔ سادھوی پرگیہ سنگھ اور کرنل پروہت جیسے لوگ بم دھماکوں میں راست طور پر شامل رہے ہیں جنکے مقدمے اب بھی عدالتوں میں زیر سنوائی ہیں ۔ ان تمام پوائنٹس پر غور کریں اور پی یف آئی کے طریقے کار کا جائزہ لیں تو سیدھی بات یہ ہے کہ ملک میں مسلمانوں کو بڑھنے سے روکا جارہاہے ۔صرف پی یف آئی ہی نشانے پر نہیں ہیں :۔جی ہاں اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بھارت میں صرف پی یف آئی ہی فاشسٹ طاقتوں کے نشانے پر ہے تو یہ غلط ہے کیوں کہ پچھلے کئی دنوں سے باقاعدہ طورپر مسلم تنظیمیں ، علماء اور قائدین کو کسی نہ کسی طرح سے پھنسایا جارہاہے ۔سب سے پہلے بی جے پی نے اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کو نشانہ بناکر انکے ماتحت آنے والی اسلامک ریسر چ فائونڈیشن پر قانونی شکنجہ کسا، اسکے بعد مولانا کلیم صدیقی ، مولانا عمر گوتم جیسوں کو گرفتار کیا گیا ۔ اسکے بعد رضا اکادمی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ، اس طرح سے مختلف تنظیموں کو حکومت نشانہ بنانے کی تیاری میں ہے ۔آئی آر یف پر پابندی ، مولانا کلیم صدیقی اور مولانا عمر گوتم جیسے علماء کی گرفتار ، صدیق کپن ، شرجیل امام ، عمر خالد جیسے نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہوئے حکومت یہ دیکھنے کی کوشش میں تھی کہ اس کا مسلمانوں میں کیا رد عمل آئے گا ۔ جب حکومت جان گئی کہ مسلمان اب بھی خاموش ہیں اور وہ کسی بھی جھمیلے میں آنا نہیں چاہ رہے ہیں تو انہوںنے پی یف آئی جیسی تنظیموں پر ہاتھ ڈالنے کاارادہ کر لیا ہے جسکے بعد انہیں ملک میں کسی بھی تنظیم یا شخص پر ہاتھ ڈالنے کے لئے آسان ہوجائیگا ۔ پی یف آئی پر پابندی لگانے کی بات پر جہاں مسلم تنظیموں اور اداروں کی جانب سے خاموشی چھائی ہوئی ہے اس خاموشی کو توڑنا ہوگا ورنہ مسلمانوں کو فاشسٹ طاقتیں پوری طرح سے خاموش کرادینگی ۔
