بنگلورو:۔کرناٹکا میں سال2020 کے دوران انسداد گائوکشی اور تحفظ مویشی ایکٹ (انیمل پروٹکشن ایکٹ اینڈ کائو سلاٹر ایکٹ) کے تعلق سے کرناٹکا ہائی کورٹ میں جو عرضی دائرکی گئی تھی اُس عرضی کی شق5 کے مطابق عدالت نے شق5 پر عائد کردہ پابندی کو ہٹانے کے احکامات جاری کئے ہیں جس کے مطابق اب ریاست میںجانوروں کوایک جگہ سے دوسری جگہ غیر قانونی طریقے سے نہیں لے جایاسکتا اور اس کیلئے لازمی طور پر قانونی کارروائی کرتےہوئے جانوروں کومنتقل کیاجاسکتاہے۔سال 2020 میں منظور شدہ قانون کے مطابق ریاست میں 13 سال سے زیادہ عمرکے بھینس کو ہی ذبح کیاجاسکتاہے،اس کے علاوہ گائے،بیل اور کم عمرکی بھینس کو بھی ذبح کرنا ممنوع ہے۔ سلاٹر ایکٹ کی شق5 کو ہٹانے کے بعد اس بات کاخدشہ زیادہ ہوچکاہے کہ ریاست میں گائوکشی یا جانوروں کے تحفظ کے نام پر خود ساختہ گائورکشک کسانوں اور جانوروں کے تاجروں پر حملے کرسکتے ہیں،خصوصاً اس کااثر مسلم تاجروں پر زیادہ ہوگا۔پہلے ہی ریاست میں بڑے کے گوشت کی دکانوں پر پابندی عائدکئے جانےسے ہزاروں کی تعدادمیں قصائی بے روزگارہوچکے ہیں اور جانوروں کے کاروبار سے جڑے ہوئے افراد نقصان اٹھارہے ہیں ، سب سے زیادہ نقصان معیشت کو ہورہاہے۔دریں اثناء گائوکشی قانون کے تعلق سے او رمزید عرضیاں عدالت میں شنوائی کیلئے باقی ہیں۔
