کرناٹک میں سرکاری عہدوں پر بھرتی کیلئے بڑے پیمانے پر رشوت خوری: پی ایس آئی کے بعد بمول اور بی ایم ٹی سی کے تقررات میں بھی ہوا ہے گھوٹالہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔بدعنوانی،رشوت خوری اور بے ایمانی کے ذریعے سے سرکاری عہدوں کو حاصل کرنے کا سلسلہ پچھلے دس پندرہ سالوں سے رُکاہواتھا،سی ای ٹی اور دیگر مسابقاتی امتحانات کے ذریعے سے پچھلے پندرہ بیس سالوں میں ہزاروں افراد نے بغیر کسی رشوت کے اپنی صلاحیتوں کی بنیادپر سرکاری نوکریاں حاصل کررہے تھے اور کرناٹک میں سرکاری نوکری حاصل کرنے کیلئے صرف صلاحیت کی ضرورت تھی،لیکن بی جے پی حکومت کے آنے کے بعد شائد تقررات کا یہ نظام درہم برہم ہوچکاہے۔اب ریاست پر سرکاری عہدوں کو حاصل کرنے کیلئے رشوت دینا پڑرہاہے، بدعنوانیوں میں ملوث ہونا پڑرہاہے اور قابل امیدوارو ں کو نااُمیدی کاسامنا کرناپڑرہاہے،جس کے ہاتھوں میں پیسے اُس کے ہاتھ میں نوکری جارہی ہے،باوجود اس کے کرناٹکا حکومت اپنی دفاع میں اُترآئی ہے ۔پولیس سب انسپکٹر کے عہدوں کی تقرری کے تعلق سے جو گھوٹالہ سامنے آیاہے،اُس گھوٹالے پر سے ابھی پردہ ہٹابھی نہیں تھاکہ مزید ایک گھوٹالہ سامنے آیاہواہے۔پولیس سب انسپکٹرکے عہدوں کیلئے 50تا60 لاکھ روپئے رشوت لیے جانے کی بات سامنے آئی تھی جس کی تحقیقات سی آئی ڈی کررہی ہے ۔ اس گھوٹالے میں بی جے پی کے نامورلیڈران کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔اسی جگہ ایک اور گھوٹالہ بھی سامنے آیاہے جس میں بنگلورو مِلک یونین لمیٹیڈ( بمول)کیلئے 270 عہدوں کی بھرتی ہونی تھی،ان امیدواروں کے پا س سے15 تا20 لاکھ روپئے رشوت لئے جانے کی بات سامنے آرہی ہے۔اسی سال جنوری میں ہوئے تقررات کو لیکر شک ظاہرکیا جا ر ہا تھا جس پر تحقیقات کرنے کےبعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بمول کے تقررات میں بھی بڑے پیمانے پر گھوٹالہ ہواہے۔حالانکہ یہ تحقیقات27 جنوری کو شروع ہوئی تھی اس کی رپورٹ اب محکمے کے سربراہ اور ریاستی وزیر برائے کوآپریٹیو سوما شیکھر کو سونپی گئی ہے۔پی ایس آئی اور بمول کے تقررات کے معاملے کے بعدیہ بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ریاست میں پچھلے کچھ دنوں سے جو کے پی ایس سی اور دیگر محکموں کی تقرری ہورہی ہے اُس میں بھی بے ایمانی ہوگی۔ غرض یہ کہ بی جے پی حکومت آنے کے بعد جہاں تقررات کو شفافیت سے کرنا چاہیے تھا وہیں بدعنوانیوں اور رشوت خوریوں سے سرکاری نوکریوں کےتقررات کے نظام کو تباہ وبرباد کردیاہے ،اب پھر سے نوجوان طبقے میں سرکاری ملازمتوں کے تعلق سے شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔