شیموگہ:۔ریاستی حکومت کی طرف سے منعقد کئے گئے 545 / پی ایس آئی عہدوں کی تقرری میںبڑے پیمانے پرہوئی بدعنوانی میں ملوث ناموں میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹرسی این اشوت نارائن کا نام بھی شامل ہے لہٰذا انہیںفوری استعفیٰ دینا چاہئے۔ اس بات کا مطالبہ ڈسٹرکٹ این ایس یوآئی نے کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ این ایس یوآئی شیموگہ نے آج اس بدعنوانی کے خلاف وزیر اعلیٰ تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے منفرد طریقے سے احتجاجی مظاہر کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ وزیر اعلیٰ سے درخواست کی ہے۔ اس دوران مظاہرین نے بتایا کہ پی ایس آئی کی 545 بھرتیوں کے معاملے میں ہونے والی بدعنوانی میں وزیر برائےاعلیٰ تعلیم اشوت نارائن اوران کے رشتہ داروں کی شمولیت ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ بدعنوانی میں ملوث کسی بھی خطاکار کو معاف نہیں کیا جانا چاہئے اوراشوت نارائن کو وزیر کے عہدے سے برطرف کرنے پر زور دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ بی جے پی حکومت آنے کے بعد سے کئی اسکینڈل سامنے آئے ہیں۔ اس فہرست میں پی ایس آئی کے عہدوں پر بھرتی کا معاملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی ایس آئی کی 545 آسامیوں پر ہونے والی بھرتیوں میں کروڑوں روپے کا گھپلہ کیا گیا ہے۔ اس بدعنوانی میں بی جے پی رکن اسمبلی اوروزراء کے علاوہ دیگر افراد کے بھی شامل ہونے کا امکان کیا جارہا ہے۔ چونکہ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ تعلیم اشوت نارائن کا نام بھی سامنے آیا ہے تو انہیں فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جانا چاہئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پی ایس آئی بھرتی گھوٹالے میں بی جے پی کے مزید رہنمائوں کا ہاتھ ہے لیکن حکومت اس کو چھپانے کیلئے دوبارہ امتحان لینے کیلئے کوشاں ہے۔بی جے پی رہنمائوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے دوبارہ امتحان لینے کا ڈرامہ کیا جارہا ہے ، لیکن اس سے جن لوگوں نےایمانداری سےامتحان تحریر کرکے پاس کیا ہے۔ انکی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ روزگار کے متلاشی کئی نوجوان اس گھوٹالے کے بعد پہلے ہی اپنی خود اعتمادی کھوچکے ہیں ، حکومت انکے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے انکی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے پر آگئی ہے کہتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ انہوںنےکہا کہ گھپلے کی تحقیقات کرائی جائیں اور تقرری میںقانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ایماندار امیدواروں کا دوبارہ امتحان لیا جانا کہاں تک درست ہے؟۔ حکومت فوری طور پر دوبارہ امتحان کا فیصلہ ترک کرنا چاہئےاور غیر قانونی کاموں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے، ایماندار افراد کی تقرری کرنے پر زوردیا ۔اس موقع پر کانگریس لیڈروں میں شامل جے ڈی منجوناتھ، جگدیش، پرنیش، اقلیتی کانگریس کے سٹی صدر محمد نیہال،چیتن سمیت کئی اراکین موجودتھے۔
