از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
1992 میں شہید ہونے والے بابری مسجد کے فیصلے کے زخم ابھی بھرے نہیں ہیں ایسے میں اترپردیش کےوارانسی کی گیان واپی مسجد کے تعلق سے مقامی عدالت نے جو فیصلہ دیاہے وہ فیصلہ پھر ایک مرتبہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابرثابت ہورہاہے۔بابری مسجدکے فیصلے کےبعد مسلم پرسنل لاء بورڈنےاعلان کیاتھاکہ وہ اس فیصلے کی سراز نو جائزے کیلئے عدالت سے دوبارہ رجوع کرینگے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت بھارت کی مختلف ملّی تنظیموں نے بھی بھارت کے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ مسلمان قانون کے دائرے میں رہیں اور عدالت کے فیصلے کونہ چاہتے ہوئے بھی قبول کریں،امن وامان قائم رکھیں اور ہر حال میں جمہوریت پر بھروسہ رکھیں۔اگر جائزہ لیاجائے تو بابری مسجد کا فیصلہ بھارت کے مسلمانوں کیلئے ایک تجربہ کے نتیجے کے طو رپر پیش کیاگیاہے اور بھارت کے فرقہ پرست یہ دیکھنا چاہ رہے تھے کہ کیا مسلمانوں کے ضمیرمیں اس سے کوئی جنبش یعنی حرکت نظرآئیگی؟جب فرقہ پرستوں نے محسوس کیاکہ اب مسلمان مست ہیں انہیں ان کے مذہبی مقام سے ہی کوئی دلی دلچسپی نہیں ہے تو انہوں نے اپنے پَر وپیر پھیلانے لگے جس کا نتیجہ اب مسلمان حجاب،اذان،حلال،مسجد ،لائوڈ اسپیکر اور تبلیغ جیسے معاملات پر پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ قریب دو سال گذرنے کے باوجود تبلیغی جماعت کے مرکز کو مسلمان سراز نو اپنی تحویل میں حاصل کرنےسے محروم رہے ہیں۔ہر معاملے کے بعد ہماری ملّی قیادت کا ایک اخباری بیان جاری ہوتاہے کہ مسلمان صبر سے کام لیں،اطمینان سے رہیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ٹھیک ہےعام مسلمان قانون کو ہاتھ میں نہیں لینگے اور امن وامان برقرا ربھی رکھیں گے۔مسلمان صبر وتحمل کا مظاہرہ کرینگے،لیکن سوال اُن لوگوں سے ہے جو اُمت مسلمہ کی قیادت کیلئے دعویدارہیں ،جو شریعت کے پاسدار ہیں،جو امیر شریعت ہیں،جو امیر الہند ہیں،جو امیر اُمت ہیں،جو خطیبِ اُمت ہیں ،جو حکیمِ اُمت ہیں،جو نبیرۂ اُمت ہیں جو مجاہدِ اسلام ہیں،جو اسٹیجوں کے شہسوارہیں،جو شمشیر حق ہیں اور اُن لوگوں سےبھی جو اُمت کو اپنے ماتحت چلنے کی ہدایت دیتے رہتے ہیں۔عام مسلمانوں نے تو کبھی ان معاملات میں آگے بڑھ کر قیادت اس لئے کرنے کی کوشش نہیں کی تھی کہ آپ جیسے لوگ اُمت کی رہنمائی کیلئے سرجوڑکر ہمیشہ بیٹھے ہوئے تھے۔آخر اُمت مسلمہ کو آپ کے سرجوڑ کر بیٹھنے کے بعد کیا ملا اور کتنے مسائل ہوئے؟۔آج مسلم پرسنل لاء بورڈ باربار پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اُمت مسلمہ کو امن وسکون سے رہنے کی ہدایت دے رہاہے۔حجاب ،طلاق ثلاثہ،بابری مسجد،حلالہ جیسے مدعوں پر آ پ پر ہی تو بھروسہ کیاگیاتھا،شاہ بانو کیس سے لیکر بابری مسجدتک کے مختلف مقدموں میں سوائے شکست حاصل کرنے کے مسلم پرسنل لاء بورڈنے کچھ بھی حاصل نہیں کیاہے۔آخر مسلم قائدین نے اسلام کوکیا سمجھ رکھاہے؟کیا اسلام کواے سی کمروں میں بیٹھ کر محفوظ کیاجاسکتاہے؟۔تاریخ کی کتابوں کامطالعہ کیاجائے تو اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے لیکر سلطان صلاح الدین ایوبی سے لیکرحضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ جیسے عظیم شخصیات نے ملک ،ملت ،قوم اور ایمان کو بچانے کیلئے جان مال و وقت کی قربانی دی،زندگیوں کووقف کردیاتھا،لیکن آج امیر شریعت کم امیرِ جمہوریت زیادہ ہوتے جارہے ہیں۔کرناٹک میں لائوڈ اسپیکر کا معاملہ گرمایاہواہے،ایسے میں کرناٹک کے امیرِ شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کا انعقادکرتے ہوئے اس بات کااعلان کیاہے کہ مسلمان مسجدوں کے لائوڈ اسپیکرسے اذان دینے سے گریز کریں،اس کے علاوہ ایک اور پریس کانفرنس میں انہوں نے کہاکہ اگر توہین رسالت ہوتی ہے،شرپسند دین کی توہین کرتے ہیں تو تب بھی مسلم نوجوان امن وسکون کا مظاہرہ کریں اور قانون کے ذریعے سے ان شرپسند عناصر کو سزا دلوائیں۔آزادی کے75 سالوں سے توہین رسالت کے مرتکب ہونے والے کتنے قصوراروں کو بھارت کی مسلم تنظیموں،امیرِ شریعت،مفتیان اور تحفظِ رسالت کے علمبرداروں نے سزادلوائی ہے کوئی یہ بھی بتادے۔75 سالوں میں آر ایس ایس نے اپنی مرضی کے مطابق آئین کو تبدیل کروانے میں کافی حدتک کامیابی حاصل کی ہے،لیکن بھارت کی آبادی کے ایک چوتھائی حصے مسلمانوں کے قائدین نے آج تک توہین رسالت پر قانون بنوانے میں کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔75 سالوں سے کئی افطار پارٹیاں اور عید ملن پارٹیاں ہوئے اورہر پارٹی میں راجیہ سبھا،ایم ایل سی اور دیگر عہدوں کیلئے سودے ہوتے رہے،مگر مسلمانوں کو جان سے پیارے نبیﷺ کی عزت کو برقرار رکھنے کیلئے کبھی قانون منظورکروانے کا مطالبہ نہیں ہوا۔امسال عیدملن میں تو حد ہوہی گئی،مدنی خاندان کے چشم وچراغوں نے باقاعدہ بابری مسجدکے قاتلوں کو فائی اسٹار ہوٹل میں عید ملن تقریب میں شامل کیاتھا،آخر اُمت کا سودا کن کن محاذوں پر کیاجارہاہے یہ سوچنے والی بات ہے۔گیان واپی مسجدکے تعلق سے اگر مسلمان فوری طو رپر لائحہ عمل نہیں کرتے ہیں تو یقین جانئے کہ ہر مسجدکے مینارپر شیو لنگ دکھائی دیگااور ہر مسجدکے محراب میں گھنٹی بجانے کی جگہ دکھائی دی جانے لگے گی،ہر مصلے پر پاروتی کالہنگا دکھائی دیگا،ہر عاصہ کو شیو کا ڈنڈا بتایاجائیگا۔اب اس سے آگے اُمت مسلمہ کو اپنی قیادت اور قیادت کرنے والوں کے تعلق سے سوچنے کی ضرورت ہے،ورنہ حالات اس ملک میں بد سے بدتر ہوجائینگے۔
