حکومت اگر اکادمیوں کو فعال نہیں کرتی تو نہ کرے ، ہم خود میں اکادمی تصور کرینگے اور کام کریں گے ۔لیکن اردو کا کام کبھی رک نہیں سکتا:ڈاکٹر حافظ کرناٹکی

اسٹیٹ نیوز
 کائنات ادب بنگلور کے زیر اہتمام شہر کے دارالسلام میں عید ملن مشاعرہ کا انعقاد
بنگلورو:۔ اردو زبان کی خدمت کرنے والے اردو کے عاشق ہوتے ہیں ۔زبان کی محبت میں اردو زبان و ادب کی خدمت کرنا ہی ان کی اولین ترجیح ہوتا ہے ۔ایسے لوگوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔لوگ کہتے ہیں کہ ماحول سازگار نہیں ہے، ملک کے نازک حالات میں ادبی سرگرمیوں کی کیا ضرورت ہے، مشاعروں کی کیا ضرورت ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ علمائے کرام دینی خدمات میں لگے رہیں گے ۔سماجی کارگزار سماجی خدمات میں رہیں گے ۔ادب سے تعلق رکھنے والے ادب کا کام کرتے رہیں ۔بے جا تنقید کرکے ایسے فعال لوگوں کا حوصلہ پست نہ کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار کائنات ادب بنگلور کے زیر اہتمام دارالسلام ، کوئنس روڈ بنگلورمیں منعقدہ عید ملن مشاعرہ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے حکومت ہند کے ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادب میں مداخلت نہ کی جائے ۔ سیاسی ہتھکنڈوں کو سیاسی انداز میں نپٹا جائے ۔ادب کو غیر متنازعہ رکھا جائے کیونکہ ادب کے ذریعہ ہی آنے والی نسل کو با ادب بنایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ، ہماری چاہت اور ہماری آرزو صرف اور صرف اردو ہے ۔اردو کے لئے ہم سب جڑتے ہیں اور کام کرتے ہیں ۔حکومت اگر اکادمیوں کو فعال نہیں کرتی تو نہ کرے ، ہم خود میں اکادمی تصور کرینگے اور کام کریں گے ۔لیکن اردو کا کام کبھی رک نہیں سکتا۔ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے مزیدکہا کہ کائنات ادب نے مختصر سے عرصہ میں ادبی سرگرمیوں کو انجام دیتے ہوئے مقبولیت حاصل کرلی ہے ۔بہت جلد یہ ملک بھر میں خدمت انجام دے گی۔انہوں نے صدر کائنات ادب عنایت اللہ خان کی کوششوں کو سراہا۔ بالخصوص معتمد سہیل نظامی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وہ اپنی مصروفیات کے باوجود ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ قابل تقلید ہے ۔انہوں نے کہا کہ صرف لوگوں کو جمع کردینا کافی نہیں ہوتا۔پروگرام سے ایک پیغام بھی عوام تک پہنچنا چاہئے ۔انہوں نے نائب صدرعبدالعزیز داغ کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ بنگلور میں شعرائے میں انہو ںنے بہت نام کمایا ہے ۔ اس دور میں جہاں ہماری ریاست کے شعراء گمنامی میں جی رہے ہیں ہمیں چاہئے کہ شمالی ہندوستان کے شعراء کو بلا کر انہیں نوازنے کی بجائے مقامی شعراء کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔کیونکہ وہ غریب اور مستحق لوگ ہیں جن کی روز مرہ کی زندگی مشکل بن گئی ہے ۔ڈاکٹر محمد فاروق چیرمین الامان ایجوکیشنل اینڈو یلفیر ٹرسٹ بنگلور نے کہا کہ مشاعرے اردو زبان و ادب کی ثقافتی تہذیب کا حصہ ہیں ۔مشاعروں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔نوجوان نسل کو چاہئے کہ اردو زبان سے وابستگی قائم کرے کیونکہ اس زبان میں ہم اپنا دینی اثاثہ پا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کی نسل ا نگریزی کی طرف مائل ہیں اوراسی سے فیضیاب بھی ہورہی ہے ۔لیکن اردو کی شیرینی اور اس کی چاشنی سے وہ نابلد ہے ۔اگر یہ نوجوان نسل مشاعروں میں شرکت کرنا شروع کردے تو زبان سے بھی واقف ہوگی اور شعر و ادب سے بھی۔محمد نیاز المعروف آر ٹی او نیاز نے کہا کہ کائنات ادب نے عید ملن مشاعرہ کے ذریعہ مقامی شعراء کے ساتھ شمالی ہند کے شعراء کو شامل کیا یہ بہت اچھا قدم ہے ۔اس طرح کے امتزاج سے ہمیں زبان کے فروغ میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ آج اردو کی مجالس اور مشاعرے محدود ہوتے جارہے ہیں ۔اس فقدان کو دور کرنے کے لئے زیادہ تعداد میں مجالس اور محافل کا انعقاد کرنا چاہئے ۔مشاعرے کا آغاز مولانا محمد تبارک رشیدی کی قرأت سے ہوا۔ حافظ سید تبریز نے نعت کا نذرانہ پیش کیا۔صوفی سنگر کھنک جوشی نے اس موقع پر حافظ کرناٹکی کی حمد اور ایک غزل پیش کی جس کی بے حد پذیرائی ہوئی۔سید فضل اللہ فیضی خوندمیری کرناٹکا اکاؤنٹس اینڈ آڈٹ ڈپارٹمنٹ ،پروفیسرکے افتخار احمد شریف چیرمین ملت گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کولار، سید تاج الدین اڈمنسٹریٹرنوبل میڈیا لنکس بنگلور اور نذیر بنگلوری مہمانان خصوصی رہے ۔کائنات ادب کے صدر عنایت اللہ خان اور نائب صدر عبدالعزیز داغ نے تمام مہمانوں کی شال پوشی کرتے ہوئے گلدستہ اور پھل پیش کئے ۔سہیل نظامی کی نظامت میں حسب ذیل شعراء نے اپنے کلام سے نوازا۔ حسن علی خان حسن چن پٹن، وسیم جھنجھانوی،سردار وہاب دانش، اسجد بنارسی، منظور عالم جنیدی، جمیل اختر بنارسی، عبدالعزیز داغ، عبداللہ راز دیوبنداور راحت حرارت وانمباڑی۔سہیل نظامی کے شکریہ پر مشاعرہ اختتام کو پہنچا۔