نو منتخب رکنِ کونسل کے عبد الجبار قومی و ملی ترقی اور اتحاد  سے متعلق  پُر اُمید

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔کے پی سی سی اقلیتی چیرمن کے عبدالجبار کے  قانون ساز کونسل کیلئے بلامقابلہ منتخب ہونے پراردو اخباری نمائندے نے مستقر پر ملاقات کرتے ہوئےتبادلہ خیال کیا جو قارئین کی خدمت میں من و عن پیش ہے،اس موقع پر عبدالجبار نے کہا کہ اللہ رب العزت کا بے پناہ احسان ہے کہ اس نے ایک موقع عنایت کیا اور کانگریس پارٹی نے اُمیدوار بنایا اور بلامقابلہ کامیابی عطا کی ،جب کہ دو سیٹ تھی جس میں ایک اقلیتی طبقہ سے وابستہ ایک مسلمان کو کانگریس نے یہ موقع دیا تمام پارٹی قائدین کا بے حد ممنون و مشکور رہتے ہوئے ملک و ملت و ریاست کی ترقی کے لئے میں کام کرنے کو لیکر پُر اُمید ہوں ،اور میں اپنی قوم سے یہی گذارش کرتا ہوں کہ اقلیتی مسلم طبقہ کو اب بہت محتاط رہتے ہوئے اپنا لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا کہ ملک میں فرقہ پرست پارٹی کے برسرِ اقتدار رہتے ہوئےملک کے  آئین کو جو خطرہ لاحق ہے اس سے واحد مسلم طبقہ کو ہی زیادہ مسائل ہونگےہم سب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں  اور ملک میں ریاست میں ملت کا ہر ذی شعور  فرد یہ جانتا ہے کہ فرقہ پرستی کے اس سیلاب سے جس قدر مسائل  کا سامنا اس طبقہ کو ہےوہ کسی اور کو طبقہ کو اس بات سے کچھ فرق پڑنے والا ہے نہیں مگر نقصان سب کو ہے ،لہذاء ملت کو ایک جسم کی مانند ہونا وقت کا تقاضہ ہے،نا سمجھیں کہ اگر حالات کی نبض کو تو یہ اس سیلاب کی زد سے نعرہ بازی تو بچا نہیں پائے گی ،ہمارہ اتحاد اتفاق ہی ملک میں ہماری عزت ترقی و سرخ روئی کا ضامن ہے،ہمیں اپنے آپسی تعلقات کو مضبوط کرنا اور ناچاقیوں کو دور کرنا ہمارے مستقبل کا زینہ ہوگا ،جس ملک میں یہ قوم سینکڑوں سال قومی یکجہتی کے ساتھ برسرِاقتدار رہی ملک کو پروان چڑھایا ،دُنیاں اس ملک کو سونے کی چڑیا کہنے پر مجبور ہوئی اور ملک میں کاروبارکے نام  پر داخل ہوکر انگریزوں نے ہم ہی میں چند لوگوں کو اپنا آلہ کار بناکر ملک پر قبضہ جمایا پھر ایک عرصہ تک ملک غلامی کی زنجیروں میں قید ہوکر رہا ،جس کی آزادی کے لئے ہم نے کیا کچھ نہیں کیا، ملک آزاد ہوا اب یہی قوم اس ملک میں اپنی بقاء کو لے فکر مند ہے ،تفکر ضروروی ہے مگر خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہمارہ اتحاد ہی ہماری بقاء کا ضامن ہے،ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی سے نا کسی پارٹی کو اور نا ہی کسی طبقہ وہ خطرہ لاحق ہے جو خطرہ اس قوم کو ہے ،اس ملک سے ہمارے آقا کریم ﷺنے خوشبو محسوس کی اس ملک میں آج بھی آبادی کے حساب سے پچانوئے فیصد لوگ عدل و انصاف امن بھائی چارہ کے دلدادہ ہیں ہمیں چاہیے کہ امن پسند دیگر طبقات سے اپنے آپ کو جوڑتے ہوئے ملک میں انصاف ،امن ،قانون کی بحالی و جمہوریت کی حفاطت کے لئے کمربستہ ہونے کی ضروروت ہے،ریاست میں مذہبی اداروں  کے ذمہ دار  شفافیت کے ساتھ لوگوں سے میل جول کو بڑھا کر مساجد کو قوم کے مستقبل کو سنوارنے اور قیادت ِ قوم متعلق اپنی ذمہ داری کے لئے آگے آنا اور مساجد کو مرکز بناکر ملت کے مسائل کے حل کا بیڑا اٹھا نا ہوگا  صرف سیاسی قائدین سے ساری توقعات مسائل کا حل نا ہونگی،ریاست میں ایک جگہ پر اُٹھے حجاب کے معاملہ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا اور نادانی کہ عدالت تک معاملہ کو لے گئے برعکس اس کے حکومت پر دباؤ بنا کر بھی مسلہ کا حل ڈھوندا جاسکتا تھا ، عدالت نے جو فیصلہ دیا  ہائی اسکول مگر آج شر پسند عناصر کالج یونیور سٹی تک اس مسلہ کو اُچھا ل کر پریشان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،ہمیں بہت سنبھل کر اپنے بزرگوں کی قیادت میں خود سونپ دینا ہوگا جلد بازی میں نوجوانون کا اُٹھایا قدم پوری قوم کو مشکلات سے دوچار کرسکتاہے ،ہُبلی میں ایک معاملہ جو ہوا آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہےراستےپر کی دھول کو خود ہم نےا پنے اُوپر جو لیا   کسی شر پسند کی جانب سے قوم کو مشتعل کرنے کیلئے کی گئی کوشش کامیاب ہوئی اورآج ملت کے بہت سارے نوجوان جیل میں بند ہیں ایسے حالات میں نوجوانوں کو مشتعل ہونے کےبجائے بزرگوں کی سرپرستی میں کام کیا جاتا اور احتیاط اپنایا جاتا تو معاملہ برعکس ہوتا ،ابھی 2024 تک ایسے بہت سارے واقعیات رونماء ہونے کو ہیں ہمیں صبر اور احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیےاس لئے کہ پچھلے دور میں شرپسند عناصر شمالی ہند میں ایسے ہتکنڈے استعمال کرتے رہتے مگر اب کرناٹک کو شر پسند عناصر اپنی لیابورٹی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ان ملک مخالف سازشوں کو ناکام کرنا اب ملک کے ہر ذیشعور انصاف پسند فرد کی ذمہ داری ہے ،انگریزوں کے راج کے وقت جس طرح آزادی کی جد وجہد کے لئے ملک غیور لوگوں نے محاذ بنایا تھا آج اِن فرقہ پرست طاقتوں سے ملک کو آزاد کرانے کے لئے ملک میں امن بھائی چارہ اور انصاف کی بالا دستی چاہنے والے دیگر طبقات کے بھائیوں سے ہمارہ ربط ضروری ہے،ملک کی آزادی میں جن نظریات کے حامل افراد کا کوئی کردار نہیں بدقسمتی سے آج ملک کے اقتدار پر اُنہی کا قبضہ ہے،جو روز بروز ملک کی کو نجی ہاتھوں میں دینے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ملک کی معیشت ختم ہونے کو ہے بے روزگاری  ایک نیا مسلہ  بننے کو ہے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگا ر کے مواقع  محدود تو کیا   محال دیکھائی دے رہے ہیں ملک کے وزیر اعظم قوم کو من کی بات کہتے جارہے ہیں کام کی اب تک جو نا کرسکے جس منصب پر فائز ہونے کے بعد کام کی بات کرنی تھی وہان من کی من مانی ہوتی جارہی ہےملک کا ہر ذشعور آج فکر میں ڈوبا ہوا ہے سب کا منشاء تو فرقہ پرستی کو فروغ دینے اور ملک  کی یکتا قومی یکجہتی انصاف امن بھائی چارگی کو زک پہنچانے والی اس پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا تو ہے ہی مگر آپسی اتحاد و اتفاق کی کمی نے ملک کے تیتیس فیصد رائے دہندگان کی مرضی پر ملک  اس سیلاب میں جھونک دیا  ،سینسٹھ فیصد آبادی نے  جو انتخابات میں اس پارٹی کے خلاف ووٹ دیا  جمہوریت کا احسان ہے کہ اس کے ہاتھوں اقتدار لگا اور اُنہی جمہوری اُصولوں پر شب خون مارنے کی کوشش ہورہی ہیں ،ایسے حالات  میں ہمارے نوجوان کہیں بھی کسی قسم کی جلد بازی کا شکا رنا بنیں کیساءبھی مسلہ در پیش ہو ورغلانے کی کیسی ہی کوشش کیون نا ہو ہمیں صبر کا دامن چھوڑے بغیر اپنے بزرگون کے تجربات سے کام لینا ہوگا کسی شرپسند کے ذریعہ ہمیں ورغلا نے کو شش پر ہمیں پُر امن طور پر کسی مقام کا انتخاب کرتے ہوئے پُرامن طور پر بیٹھ جانا چاہیئے  پھر سیاسی قائدین و افسران معاملہ کی نزاکت کے اعتبار سے اپنے طور پر معاملہ کو  نپٹائیں اور نپٹانے میں ہمیں تعاؤ ن کرنا ہوگا قانون ہاتھ لینے اور تحقیق کی منزلین طئے کرتے ہوئے مجرم کو   کیفرِ کردار تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف افسران کے خلاف شدت کا راستہ اپنا کر جلد بازی میں اپنے خلاف موقع فراہم کرنا کسی صورت درست نا ہوگا ، ہمیں چاہیے کہ آنے والے انتخابات میں سوفیصد  ووٹنگ کو یقینی بنائیں ہر وقت ووٹنگ لسٹ پر نظر رکھیں اپنے اور پاس پڑوس کے لوگوں کے نام لسٹ میں ہیں یا نہیں یہ دیکھنا اب صرف اُمیداورں کا پارٹی والوں کا ہی کام نہیں اب اس کو اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہوئے  خیال رکھنا ہوگا ، اپنے ووٹوں کو کسی صورت ضایع ہونے نا دین ،انتخاب کے موقع پر اپنی ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھائیں کہیں بھی رہیں ووٹ کے استعمال کو اپنی ذمہ داری جانیں اُمیدا وار سے رابطہ نہیں، کسی نے بُلایا نہیں ہم کیون اپنا کاروبار چھوڑ کر جائیں ووٹ ڈالنے اس طرح سے ہم خود اپنے اُوپر ظلم کو مسلط کرنے والے ہونگے،فرقہ پرستی ملک میں بھائی چارگی عدل و انصاف جمہوریت کی حفاظت کے لئے دستور میں دیئے گئے انمول موقع  کو اگر ضایع کرین گے تو پھرملک میں  فرقہ پرستی تنگ نظری مذہب کے نام پر لوگوں کے دلوں مین نفرت کا پیج بو کر اقتدار تک پہنچنے میں  مصروف پرقہ پرست پارٹی  اپنے نظریا کی تکمیل کے لئے راہ    فراہم کرنے والے  ہم خود ذمہ دار کہلائیں گے۔