از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اسی سال حجاب کے تعلق سے جب ریاست بھرمیں احتجاجات واعتراضات کا سلسلہ شروع ہوا تو مسلم طالبات کی قیادت کیلئے کئی تنظیمیں آگے آئی تھیں،اس کے علاوہ کئی ملی وسیاسی افرادبھی قیادت کے نام پر اپنا لوہامنواناچاہ رہے تھے،ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر کئی طالبات نے اپنی تعلیم کو قربان کرنے کا فیصلہ کیاتھا،کئی طالبات امتحانات سے دو ررہیں،کئی طالبات ہمیشہ کیلئے تعلیم سے دور ہوگئیں،اس دوران ہر ایک تنظیم اس احتجاج وتحریک کاسہرا اپنےسر باندھنے کیلئے کوشش کررہے تھے،ان میں سے کئی تنظیموں کی طرف سے جو ویڈیوز اور تصویریں سوشیل میڈیاپر جاری کی گئیں اُس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش ہورہی تھی کہ یہی وقت کے سلاطین ہیں اور یہی وقت کے مجاہدین ہیں،کئی مہینوں تک حجاب کے تعلق سے احتجاجات ہوئے او راعلان ہواتھاکہ طالبات ان اسکولوں وکالجوں کا رُخ نہ کریں۔امتحانات ہوئے اور نتائج بھی آنے لگے ہیں،نئے سرے سے داخلے بھی شروع ہوچکے ہیں،والدین اپنے بچوں کے داخلوں کیلئے صف بند ہوچکے ہیں،مگر مجال ہے کہ ان تنظیموں اور نمائندوں کی جو حالات کے تناظرمیں مسلمانوں کے درمیان جاکر مسلمانوں کی اصلاح کریں اور مسلمانوں کی صحیح راہ دکھانے کیلئے جدوجہد کریں۔صرف مسلمانوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کے پاس جاکر تک مسلم طالبات کے حق کیلئے بات نہیں کر پارہے ہیں۔کہتے ہیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے،مگرتنظیمیں اُس وقت تک حرکت میں نہیں آتے جب تک کہ پانی سر سے اونچانہ ہوجائے۔اگر مسلم طلباء اس دفعہ بھی اُن کالجوں کو اہمیت دے رہے ہیں جہاں پر حجاب اور مسلمانوں کےحقوق کے خلاف محاذ آرائی ہوئی تھیں تو اُن تنظیموں کی ذمہ داری تھی کہ وہ کالج انتظامیہ سے بات کرتے اور طلباء کے حق کیلئے ذہن سازی کرتے۔اگر یہ ادارے نامانتے تو ان اداروں کو سبق سکھانے کی بنیادپرمسلمانوں کو داخلے لینے سے روکتے،تب جاکر کہیں اس کااثر مستقبل کیلئے ہوتا۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ تنظیمیں محض اپنی پاپولارٹی کیلئے تحریکیں چلارہی ہیں۔مسلمانوں میں بیداری لانے میں صرف تنظیمیں ہی ناکام نہیںہوئی ہیں بلکہ اہلِ علم طبقہ بھی اس میں بُری طرح سے ناکام ہوچکاہے۔پردے کی ضرورت،شریعت کی اہمیت اور فرقہ پرستو ں کی سازشوں کے تعلق سے یوں تو لمبی چوڑیں باتیں لوگو ں کے سامنے پیش کرتے ہیں لیکن جب عمل کی بات آتی ہے تو زبانیںگونگ ہوجاتی ہیں۔کئی افراد جنہوں نے پچھلی دفعہ حجاب کے تعلق سے تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاتھا،اپنے بچوں کے ذریعے سے نعرے بلند کروائے تھے،سوشیل میڈیا ویڈیوز جاری کروائے تھے،وہ بھی اس دفعہ حجاب کی لاج رکھنے میں ناکام ہوئے ہیں اور جن بچیوں سے حجاب کی اہمیت پر تقریریں کروائے تھے،اُن بچیوں کو بھی بے حجاب کرتے ہوئے تعلیم دلوارہے ہیں۔ان سب باتوں کے بعد آخر میں ایک جملہ سامنے آتاہے کہ کون کتنے پابندہیں،یقیناً پابندی وہی کرتے ہیں جن کے دلوں میں خوفِ خداہے۔
