کانگریس میں آہستہ آہستہ مسلمانوں کی قیادت پر چلائی جارہی ہے قینچی;  نہ ایم ایل اے، ایم ایل سی کیلئے ٹکٹ،نہ ہی کے پی سی سی کیلئے ہورہے ہیں سیلکٹ،ہر جگہ کیا جارہا ہےریجکٹ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔یوں تو پچھلے کچھ دنوں سے کانگریس پارٹی کے تعلق سے یہ کہاجارہاہے کہ پارٹی میں سافٹ ہندو توا کیلئے کام ہورہاہے اور مسلمانوں کو پارٹی میں سوائے ووٹ ڈالنے کے اور کسی کام کیلئے استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔یہ بات پھر ایک مرتبہ اس سے واضح ہوتی ہے کہ اس دفعہ شیموگہ سےکے پی سی سی میں قیادت کیلئے جو فہرست روانہ کی گئی تھی اُس میں ایک نام بھی مسلمان کانگریسی کا نہیں تھا،اس دفعہ دوسری قوموں کو خوش کرنے کیلئے پارٹی نے کے پی سی سی نائب صدرکے طور پر ایس مدھو بنگارپا(جے ڈی ایس سے آنے والے)،منجوناتھ بھنڈاری( ایم ایل سی کا عہدہ رکھنے والے)،کلگوڈ رتناکر(تین دفعہ ضلع پنچایت کی ٹکٹ حاصل کرنے والے)،ڈاکٹر راج نندنی کاگوڈ( کاگوڈ تمپاکی بیٹی)،پی او شیوکمار( حال ہی میں کانگریس میں شامل ہونے والے)،سی ایس چندر بھوپال( کئی سالوں سے کانگریس میں رہنے والے ) کو کے پی سی سی کے نائب صدر اور جنرل سکریٹری کے عہدے دئیے گئے ہیں،جبکہ کئی سالوں سے کانگریس پارٹی میں اپنے کپڑے پھاڑ کر،ایڑی چوٹی کازورلگا کر، کانگریس کو اپنا مسلک مان کر کام کرنے والے کانگریسی مسلمانوں کو منتخب کرنا تو دور ان کے نام بنگلورو تک روانہ کرنابھی مناسب سمجھا نہیں گیاہے، جس کی وجہ سے کانگریس پارٹی میں یہ بات باربار دوہرائی جارہی ہے کہ کانگریس پارٹی میں مسلمان صرف ووٹ دینے کیلئے ہیں نہ کہ سیاسی حق حاصل کرنے کیلئے وہ یہاں شامل ہوئے ہیں۔دیکھاجائے تو شیموگہ ضلع میں کانگریس کیلئے برسوں سے خدمات انجام دے رہے اسماعیل خان،سابق ڈپٹی مئیر محمد ثناء اللہ،سابق کائونسلر مختاراحمد،اڈوکیٹ نیازاحمد،لے آئوٹ امتیاز خان،حسن علی خان آفریدی،سیدوحیداڈو اورعارف خان عارو سمیت درجنوں مسلم لیڈران موجودہیں ،جنہیں وقتاً فوقتاً کانگریس پارٹی نے یہ دلاسہ دلایاتھاکہ انہیں معقول عہدوں سے نوازا جا ئیگا ۔پچھلی دفعہ بی جے پی کو شکست دینے کی ہوا اُٹھی تھی ، اس دوران جن مسلم لیڈروں نے اسمبلی حلقوں کیلئے ٹکٹ کامطالبہ کیاتھا ،اُنہیں یہ دلاسہ دیکر خاموش کرایا گیاتھاکہ انہیں پارٹی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جا ئیگا ، یاپھر ایم ایل سی کی ٹکٹ دی جائیگی اورحکومت کانگریس پارٹی کی آتی ہے تو مسلمانوں کو بورڈ و کارپوریشنوں کے صدور کے عہدوں پر فائزکرنے کیلئے اولین ترجیح دی جائیگی۔لیکن یہاں ایسا کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہاہے،جس کی وجہ سے کانگریس کے سینئر لیڈران ناراض اور بیزار توہیں لیکن کھل کر پارٹی کی مخالفت میں نہیں آرہے ہیں،سب پردے کے پیچھےکھڑے ہوکر کوس رہے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ اب بھی اچھے دن کے انتظارمیں ہیں ۔وہیں دوسری جانب 20-10 ہزارکی آبادی والے کانگریسی لیڈران اس حساب وکتاب میں ہیں کہ اگلی دفعہ وہ کانگریس کی ٹکٹ حاصل کرینگے،اس کیلئے مسلمان اُنہیں ووٹ دینگے۔سیاسی حساب کے مطابق 15 ہزار برہمن ووٹ رکھنے والے قائدین یہ حساب کررہے ہیں کہ60 ہزار مسلم ووٹران ہیں،15 ہزار برہمن ووٹ ہیں،40 ہزار دلت ووٹ ہیں اور 20 ہزار لنگایتوں کے ووٹ ہیں،ان تمام کوملاکر برہمن امیدوارآسانی کے ساتھ کامیاب ہوسکتاہے،اسی طرح سے گوڈا امیدواربھی یہی حساب کررہاہے کہ60 ہزار مسلم ووٹ،20 گوڈا ووٹ کو ملاکر دیگر طبقات کے ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔20ہزارکی آبادی والے لنگایت سماج کے امیدوارکابھی یہی کچھ حساب ہے،اگر حساب میں نہیں ہیں تو وہ مسلمان ہیں جو چاہ کربھی دوسروں کے ووٹ حاصل نہیں کرسکتے،کیونکہ کانگریس میں اب سافٹ ہندوتواکا وائرس پھیل رہاہے اور مسلمانوں کو عہدے دینے سے دوسری قوموں کی قیادت کمزورپڑسکتی ہے ۔پچھلے اسمبلی انتخابات کے دوران شیموگہ سے امتیاز خان اور بھدراوتی سے سابق ڈپٹی مئیر محمد ثناء اللہ سے قسمیں وعدے کرتے ہوئے یہ دلاسہ دلایاگیاتھاکہ اُنہیں کم ازکم ایم ایل سی ٹکٹ دی جائیگی، لیکن ایم ایل سی کی ٹکٹ دینے کی بات تودور انہیں کے پی سی سی کے آفیس بیرر تک منتخب نہیں کیاگیاہے ۔انتخابات قریب ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا استعمال کرنے کی تیاریاں بھی کانگریس میں زور ہوتی جارہی ہیں۔کانگریس میں سینئرلیڈراڈوکیٹ نیازاحمد جیسے لوگوں کو دور کیاجارہاہے اور ہاں میں ہاں،واہ رے واہ بولنے والے چند نوجوانوں کواہمیت دیکر پارٹی کا بیڑا غرق کیاجارہاہے۔