رمضان المبارک کا شرعی اور اجتماعی اعتکاف

مضامین
از:۔عطاء الرحمن القاسمی ،شیموگہ
رمضان المبارک میں جہاں خدا کی رحمتیں ،برکتیں ،عظمتیں اور نعمتیں موسم پرُ بہار بن کر مومنوں پر سایہ فگن ہوتی ہیں وہیں پر رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف بھی رمضان کی ایک اہم اور منفرد عبادت ہے جس کے متعلق احادیث میں کثر ت کے ساتھ اس کے فضائل وارد ہوئے ہیں۔
اعتکاف کہتے ہیں مسجد میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا،امام ابوحنیفہ کے نزدیک اعتکاف کی تیں قسمیں ہیں۔(۱)واجب جو منت یا نذر کی وجہ سے ہو جیسے یہ کہے کہ اگر میرا افلاں کام ہوگیا تو میںاتنے دنوں کا اعتکاف کروںگا یا کسی کام پر موقوف کئے بغیریوں منت کرے کہ میں نے اتنے دنوں کا اعتکاف اپنے اوپر لازم کرلیا،تو یہ اعتکاف واجب ہوجاتا ہے اور جتنی دنوں کی نیت کرے اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔(۲) دوسری قسم سنت ہے جورمضان شریف کے اخیر عشرہ میں مسنون ہے۔(۳)تیسرا اعتکاف نفل ہے جس کیلئے نہ کوئی وقت ہے نہ ایام کی کوئی قید ہے اور نہ دنوں کی مقدار،اسلئے ہر ایک بندئہ مومن کو چاہیے کہ جب بھی مسجد میں داخل ہواعتکاف کی نیت کرے جتنی دیر نماز وغیرہ میں مشغول رہے گا اعتکاف کابھی اجر مل جائے گا ،اپنے اکابر میں سے حضرت مولانا محمد یحیٰ کاندھلوی (والد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر ومدنیؒ )خادم خاص وخلیفہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے بارے میں پڑھا ہے کہ جب بھی مسجد جاتے اپنا دایاں پائوں اندر داخل کرتے ہی اعتکاف کی نیت فرماتے تھے اور بسا اوقات دیگر لوگوں کی تعلیم کیلئے با آواز بلند بھی نیت فرماتے تھے۔اعتکاف کی فضیلت اس سے زیادہ اور کیا ہوگی کہ نبی اکرم ﷺ ہمیشہ اس کا اہتمام فرماتے تھے،معتکف کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جو کسی کے درپہ پڑجائے کہ جب تک میری درخواست قبول نہ ہومیں یہاں سے نکلنے والا نہیں
نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے
یہی دل کی حسرت ہے یہی آرزو ہے
اگر واقعتاً کسی کے درپہ پڑے رہنے والے شخص کا یہی حال ہے تو سخت سے سخت دل والا بھی نرم پڑجاتا ہے اور اس گدا گر کے کشکول میں ایک دوروپئے ڈال ہی دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کریم ورحیم ذات تو بخشش ومغفرت کے لئے بہانہ ڈھوندتی ہے’’رحمت حق بہانہ می جوید‘‘بلکہ بے بہانہ بھی اللہ تعالیٰ مرحمت فرماتے ہیں:
وہ داتا ہے دینے کیلئے
در تیری رحمت کے ہیں ہر دم کھلے
اسلئے جب کوئی شخص اللہ کے درواز ے پر دنیا سے منقطع ہوکر پڑجائے تو اس کے نوازے جانے میں کیا تامل ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس پر اپنے انعام واکرام کی بارش برسادیں اس کے بھر پور خزانوں کابیان کون کرسکتا ہے ،ابن قیم ؒ فرماتے ہیں اعتکاف کا مقصود اور اس کی روح دل کو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے ساتھ وابستہ کرلینا ہے کہ ہر طرف سے ہٹ کر بند ہ اسی کے ساتھ مجتمع ہوجائے اور ساری مشغولیتوں کے بدلہ میں اسی پاک ذات کے ساتھ مشغول ہوجائے اور ہر طرف سے منقطع ہوکر اس طرح یکسو ہوجائے کہ دنیا و ی خیالات و تفکرات کی جگہ اللہ ہی کا ذکر اور اس کی محبت دل میں سماجائے تاکہ مخلوق کے ساتھ اُنس کے بجائے اللہ کے ساتھ اُنس پیداہوجائے کہ یہ اُنس قبر کی وحشت وہیبت میں کام دے سکے اس دن اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوانہ کوئی مونس نہ کوئی دل بہلانے والا ہوگا اگر اللہ کے ساتھ مانوس ہوچکاہوگا تو اس وقت کس قدر لذت سے گذرے گا:
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
میں بیٹھا رہوں تصور جاناں کئے ہوئے
صاحب ِ مراقی الفلاح (فقہ کی مشہور کتاب)کہتے ہیں کہ اعتکاف اگر اخلاص کے ساتھ ہوتو افضل ترین اعمال میں سے ہے اس کی خصوصیات لا محدود اور شمار سے باہر ہیں کہ اس میں دنیا و مافیہا سے یکسوکر لینا ہے،اور نفس کو مولیٰ کے سپرد کردینا ہے اور آقا کی چوکھٹ پر پڑجانا ہے،نیز اعتکاف میں ہر وقت آدمی عبادت ہی میں مشغول ہے، تو سوتے جاگتے ہر عبادت میں شمار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تقرّب ہے،حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوںاور جو میری طرف آہستہ چلتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں اوراس میں اللہ کے در پرپڑ جانا ہے اور رحیم وکریم میزبان ہمیشہ اپنے گھر آنے والے کا اکرام کرتا ہے اور بندہ اللہ کے قلعہ میں اس طرح محفوظ ہوجاتا ہے کہ دشمن کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی وغیرہ،اس کے علاوہ بہت سی خواص وفوائد اور فضائل اس اہم عبادت کے ہیں لہٰذا یہ شرعی اعتکاف کہلاتا ہے۔
اجتماعی اعتکاف:۔
اصل میں اعتکاف عکوف سے بنا ہے جس کے معنی کسی چیز سے چمٹے رہنا ،اپنے آپ کو کسی مقام پر جما کر رکھنا شرعی مفہوم اسی سے ملتا جلتا ہے یعنی معتکف کا مسجد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی نیت سے محبوس ہوکر رہنا ،خلوت ویکسوئی حاصل کرنا اور وقتیہ اہل وعیال سے علحٰیدگی اختیار کرلینا ہے،تو معلوم ہوا کہ اعتکاف ایسی عبادت اور مجاہدہ ہے جس کے لغوی اور شرعی مفہوم میں خلوت ویکسوئی اہم اور بنیادی چیز ہے اور ظاہر ہے خلوت نشینی ویکسوئی اجتماعیت کے خلاف ہے،یہی وجہ ہے کہ سردار ِ دو جہاں ﷺ نے کبھی اپنی حیات ِ مبارکہ میں اجتماعی اعتکاف نہیں فرمایا بلکہ سنت ِ کفایہ قرار دیتے ہوئے یہ حکم فرمایا کہ لوگ اپنے اپنے محلے کی مسجدوں میں اعتکاف کرلیا کریں،اگر محلہ میں ایک شخص نے بھی اعتکاف کرلیا سب کی طرف سے کافی ہوجائے گا،اس نقطہ پر یہاں بہت غور کرنے کی بات ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے کبھی بھی حرم شریف میں اعتکاف نہیں فرمایا ، بلکہ اپنی پوری حیات ِ طیبہ اپنی ہی مسجد (مسجد ِ نبوی)میں اعتکاف فرماتے رہے،جب کہ سب سے زیادہ اجر وثواب حرم شریف میں عبادت کرنے کا ہے،اسی طرح حضرات صحابہ ٔ کرام وتابعین ،وتبع یا بعین ،سلف ِ صالحین وائمہ مجتہدین اور دیگر علماء ِ ربانییّن نے نہ کبھی اجتماعی اعتکاف فرمایا ،نہ دور دور مساجد میں لوگوں کی اصلاح کی نیت سے اعتکاف کے لئے ملکی وغیر ملکی دور ے کئے نہ ہی اعتکاف کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کیا نہ اعتکاف کی دعوت دی نہ اشتہارات وغیرہ چھپوا کر دور دراز سے معتکفین کو جمع کیا جس طرح تین دن یا ایک دن کا اجتماع یا سمینار یا کانفرنسیں ہوتی ہیں اسی قبیل کا یہ نئے طرز کا اجتماع دس دن کا ایجاد ہوگیا۔باقاعدہ معتکفین کے گلوں میں شناختی کارڈ آویزاں کیا جاتا ہے ،باہر سے ہوائی جہازوں کے کرائے سیکڑوں معتکفین کو روانہ کئے جاتے ہیں،اس طرح قوم کا روپیہ ان بدعات وخرافات پر خرچ کیا جارہا ہے ،اور ایسی مرغن اور عمدہ غذائیں معتکفین کو کھلائی جاتی ہیں کہ شادیوں اور ولیموں کے کھانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور مسجدوں میں ایک افراتفری ایک تقریب اور فنکشن کا ماحول ہے،گہماگہمی اور ہنگامہ خیزی برپا ہے۔
نوجوانوں کو نئی سمت دکھائی جائے : ۔ہماری اس حالت ِ زار پر بڑا افسوس ہوتا ہے جب کہ ہندوستان اور ساری دنیا کے حالات اسلام اورمسلمانوں کے حق میں کتنے خطرناک ہوتے جارہے ہیں،مسلمانوں کو اور اسلام کو یکسر ختم کرنے کیلئے بڑی منظم تیاریاں کی جارہی ہیں اور ہم لوگ مسلمانوں کو اور اپنے نوجوانوں کو دوسری سمت دکھارہے ہیں،جس میں سراسر ہمارا ہی نقصان ہے چاہیئے تو یہ تھا کہ مسلم نوجوانوں کو اندرونی طور پر دفاعی ٹریننگ دی جاتی صحابہ ٔ کرام کے ولولہ انگیز واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ،ان کے ایمان افروز زندگیوں کو نوجوانوں کے سامنے رکھا جاتا اور ہر طرح سے ان کو مضبوط کیا جاتا ،انتہائی خفیہ انداز میں مسلمانوں کے گھروں کو اپنے دفاع کے لئے مسلح کیا جاتا ،مسلمان اہل ِ ثروت واہل ِ دولت کی رقم ان کاموں میں خرچ کروائی جاتی نہ کہ اجتماعی اعتکاف پر معتکفین کو لاکھوں روپئے ان کی آمدورفت اور ان کی قیام وطعام پر بے بہاپیسہ خرچ کروایا جاتا،زکواۃ و عطیات اور صدقات میں مدّات پہلے ہی سے موجود ہیں اور وہ پورے نہیں ہوتے،پھر یہ اجتماعی اعتکاف کی مد کا اضافہ کروادیا گیا اوراہل ِ ثروت کو ہم نے اپنی سحرانگیز گفتگو اور تقریر وخطاب کے ذریعے اس فضول کام کی طرف متوجہ کردیا،بہت افسوس کا مقام ہے کہ بعض علما و مشائخ اپنی صلاحیت اور حلقہ ٔ اثر کا فائدہ اس طرح اٹھار ہے ہیں جو ہمارے موجودہ حالات کے تناظر میں بالکل نامناسب ہے۔کاش اس کے بجائے نئے مسلم جنریشن کو موجودہ حالات کے مناسب نئی سمت اور نئے رخ کی طرف موڑا جاتا ۔
کیا ہم نے فلسطین کے مظلوم مسلم بھائیوں کے تعلق سے کچھ بھی سوچا؟ شام اور برما اور عراق کے مسلمانوں پر ظلم وجور اور ایک دردناک عذاب کا ہدف بنایا جارہا ہے جن میں بوڑھے ،بچے،عورتیں اور کمزور وناتواں بھی شامل ہیں ان تمام کو گولیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ان پر ایٹم بم اور میزائل برسائے جارہے ہیں اور انسانیت سوز حرکتیں روارکھی جارہی ہیںاس کے رکاوٹ کے لئے کوئی تدبیر سوچی ہے ؟ جب کہ مذہب ِ اسلام نے جانوروں پر بھی رحم کھایا ہے ،ان کے بھی حقوق بیا ن کئے ہیں تاریخ میں آتا ہے کہ رسول ِ اکرم ﷺ سے خود جانوروں نے اپنے مالک کی طرف سے ظلم کی شکایت کی ہے ۔ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ کے سامنے ایک اونٹنی اپنے مالک کی شکایت کرنے لگی یہاں تک کہ اس کی آنکھیں آنسوئوں سے اشکبار ہوگئیں،تو فوراً رسول اکرم ﷺ نے اونٹنی کے مالک کو بلوایا اور اونٹنی پر زیادتی کرنے سے منع فرمایا،اسلام اور شارع علیہ السلام کی یہ تعلیمات ہیں اب اہل ِ مغرب کونسے منھ سے مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں جب کہ اسلام درند،چرند،پرنداور دیگر جانوروں کو بھی امن کا پیغام دیتا ہے اور ان کے حقوق کا علمبردار ہے،خود اہل ِ مغرب ہی دہشت گرد ہیں چونکہ یہ ساری طاقت وتوانائی اور جدید ٹکنالوجی مسلمانوں اور مسلم ممالک کو تاراج وبرباد کرنے پر صَرف کررہے ہیں یہ خود سب سے بڑے ظالم وجابراور دہشت گرد ہیں۔
ایسے حالات میں ہم نے مسلمانوں کے مسائل کو سلجھانے ،فلسطین کی آزادی کے لئے اور برماو ملک شام کے مظلوم بھائیوں کے لئے کیا لائحہ ٔ عمل تیار کیا ؟کبھی کبھار مساجد میں دعائوں کا اعلان واہتمام کرنا یا وقتیہ امداد پہونچا دینا اور زبانی اظہار ِ غم کردینا کافی نہیں بلکہ ظالم کے ہاتھوں کو سختی سے روکنے کی ضرورت ہے ،اس کے بجائے ہم لوگ قدیم روایتی جلسوں،سیمیناروں اور کانفرنسوں کو منعقد کرنے میں مشغول ہیں،رفاہ ِ عام کی بڑی ونامور تنظیمیں اور بعض اہل ِ مدارس لاکھوں کروڑوں روپئے جلسوں اور اجتماعات کے منعقد کرنے میں صَرف کررہے ہیں ،کیا ہم نے کبھی فلسطین اور قبلۂ اول کی بازیابی کیلئے اور مسلم ممالک کے مسلمانوں کی آزادی کی خاطر کانفرنسیں اور سمینارقائم کئے؟اور ہم نے طالم حکمرانوں خصوصاً اقوام متحدہ جو عدل وانصاف کا عالمی ادارہ ہے ،اس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اپنے صحیح مطالبات کو منوایا ہے؟یقینا جواب نفی میں ملے گا ،لاکھوں افراد پر مشتمل ہمارے اجتماعات اور کانفرنسیں منعقد ہوتی چلی آرہی ہیں ،اب اس فہرست میں ایک نیا اضافہ اجتماعی اعتکاف کا بھی ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمت کو سوچنے اور سمجھنے کی توفیقات سے نوازے ، اس طرح کی بدعات و خرافات اور ایجادات کی ترویج سے بچائے ۔رمضان کی عبادتوں کو اور اعتکاف کو شریعت کے مطابق اور رسول اکرمﷺ کی سنت کے مطابق ادا کرنے کی توفیق ِ دائمی عطافرمائے۔آمین یا رب العالمین۔