بیجاپوور:۔آزادیٔ ہند کی لڑائی سارے ہندوستانیوں نے متحد ہوکر لڑی ، ہرایک مذہب کے ماننے والوں نے قربانیاں دیں۔ غیر جانبداری کے ساتھ جائزہ لیاجائے تو سب سے زیادہ وطنِ عزیز کو آزاد کرانے میں مسلمانوںکاایثارہے اور سب نے مل کر یہ خواب دیکھا تھا کہ ہم اپنے ملک کو امن، بھائی چارا، انصاف و محبت ، رواداری اور ایک دستور کے ساتھ گنگاجمنی تہذیب وتمدن کا گہوارہ بنائینگے اور عالمی سطح پر ہندوستان کا نام روشن کرینگے۔ مگر عموماً آزادی کے بعد اور خصوصاً گذشتہ آٹھ سالوں میں فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کو نشانے بناتے ہوئے نہ صرف ذلیل ورسوا کیا ہے بلکہ ان کے بنیادی دستوری حقوق سے انہیں محروم کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے جسکی مہیب مثال بلڈوزر قانون کا نفاذ ہے جو جمہوریت کیلئے بد نماداغ اور ملک کیلئے بڑا خطرہ اور ظلم عظیم ہے۔ اس تشویش کا اظہار جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا کے صدر اور آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کے رکن مولانا سیدمحمد تنویر ہاشمی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیاہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی منافرت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا کہ فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی وبے ادبی کی ناپاک کوشش کی ہے جس سے نہ صرف نفرتوں کا بازار گرم ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر وطنِ عزیز کانام بدنام ہورہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی شہری ہونے کی حیثیت سے مسلمان اپنے نبی اکرم ﷺ کی توہین برداشت نہ کرتے ہوئے اگر پر امن طریقہ سے احتجاج کرتا ہے تو اس کو غلط رنگ دے کر ملک کا غدار اور دشمن کہہ کر نہ صرف ایف آئی آر درج کیا جاتا ہے بلکہ دنگا فساد کرنے کے جھوٹے الزام میں اسکے مکان ودوکان کو بلڈوزر کے خود ساختہ قانون کے ذریعہ منہدم کرکے دن دہاڑے جمہوریت کا قتلِ عام کیا جارہا ہے۔ مولانا تنویر ہاشمی نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا ہے کہ ملک بڑی تیزی کے ساتھ لاقانونیت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بلڈوزر قانون نافذ کرکے علی الاعلان دستورِ ہند کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی دنگائی حکومتی یا ذاتی جائداد کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کے خلاف بغیر عدالتی فیصلے کے برسرِ اقتدار حکومت کارروائی کرکے بلڈوزر چلائے تو کہاںتک دستورِہند کی روشنی میں اس عظیم جمہوری ملک میں درست ہوگا؟ ملزم ومجرم میں فرق کیے بغیر قانونی چارہ جوئی کی تکمیل نہ کرکے گھنٹوں میں فیصلہ لے کر دوکان ومکان پربلڈوزر چلانا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف مسلم مخالف ہے بلکہ بھارت کے مضبوط دستور اور عدلیہ کے مستحکم نظام کو پامال کرنے کی جانب رواں دواں ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے عرصۂ حیات تنگ کیا جارہاہے۔ نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ایسے پر فتن وپر آشوب دور میں ہندوستانی مسلمانوں کو بڑی ذمہ داری کے ساتھ مثبت، منفی، عمل وردِّ عمل سارے پہلووں پر غور وخوض کے بعد اقدام کرنا چاہئے۔ کیا ہمارے احتجاج کرنے اور نہ کرنے سے حالات بدلینگے ؟ کیا ہمارے عمل وردِّعمل سے دشمن کی سوچ تبدیل ہوگی؟ ان امور پر بھی ہمیں توبوجہ کرنی چاہئے۔ بلاشبہ کوئی مسلمان توہین رسالت برداشت نہیں کرتا مگر ہمیں حضور اکرمﷺ کی سیرت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے صبر و تحمل ، حکمت وتدبر کا بھی مظاہرہ کرناچاہئے۔ اکابر علمائِ کرام نے باہمی مشورے سے یہ طے کیا ہے کہ ہم اس طرح کے حساس مسائل میں سڑکوں پر نہیں اترینگے بلکہ ہم پر امن طریقہ سے قانونی چارہ جوئی کریںگے۔ ہمارا دشمن ، سیاسی جماعتیں، میڈیا بھی یہی چاہتاہے کہ ہم ردِّعمل کرتے ہوئے راستوں پر آکر نعرہ بازی کریں اور ہم اگر ایسا کرتے ہیں تو انصاف سے بتائیں کہ کون کامیاب ہورہاہے اور کون ناکام۔
