سب اُلو سیدھا کررہے ہیں

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بھارت میں اس وقت غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہوچکا ہے اورآئین ہند کی دھجیاں اڑا ئی جارہی ہیں ، ایک طرف حجاب ، اذان، برقعہ کا مسئلہ تو دوسری طرف مسجدوں میں مورتیوں کی تلاش کرتے ہوئے یہاں کے اقلیتوں کا جینا محال کیا جاچکا ہے ۔ بھارت میں اس وقت قانون صرف اکثریتی طبقے کے لئے ہے نہ کہ اقلیتوں کو اسکا فائدہ مل رہاہے ۔ جمہوری نظام کے چاروں ستون کھوکھلے ہوچکے ہیں اور ان ستونوں پر باقاعدہ طورپر فرقہ واریت کی دیمک لگ چکی ہے ۔ بھارت میں حق بولنا ، لکھنا اور سننا تینوں ہی جرم ہوچکاہے ۔ جہاں فرقہ واریت پر مبنی سیاست چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اور مٹھی بھر لوگ اس ملک کے شہریوں کا جینا محال کرچکے ہیں وہیں ملک میں سیکولرزم کے نام پر سیاست کرنے والی سیاسی جماعتیں ان معاملات سے کنارہ کشی کرنے لگی ہیں ۔ کرناٹک میں جب حجاب کامسئلہ گرمایا ہوا تھااور مسلم طالبات اپنے حق کی لڑائی میں نامور سیاسی جماعتوں سے تائید طلب کررہی تھیں اس موقع پر بھارت کی سب سے پرانی خود ساختہ کانگریس پارٹی کے کرناٹک کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے اس معاملے پر بات کرنے سے روکا اور کہا کہ یہ آئینی مسئلہ ہے اور معاملے کے تعلق سے رد عمل نہ ظاہر کرنے کے لئے پارٹی کے تمام لیڈروں کو ہدایت جاری کی تھی ، واضح ہوکہ کانگریس پارٹی میں طلباء کی ایک یونٹ ین یس یو آئی بھی ہے جو طلباء کے حقوق کی لڑائی کا دعویٰ کرتی رہی ہے اس نے بھی کبھی مسلم طلباء کے حق میں آواز اٹھانا ضروری نہیں سمجھا تھا ، وہیں دوسری جانب جے ڈی یس کے سینیر لیڈر اورکرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ہیچ ڈی کمار سوامی نے بھی حجاب کے معاملے میں دبی آواز میں ہی بات کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔ اب پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کے بعد بھی کسی سیاسی پارٹی نے اپنا منہ نہیں کھولا ، سوائے مسلم اکثریتی والے مسلم سیاسی پارٹیوں کے کسی نے بھی اس معاملے کو سنجید گی سے نہیں لیا ۔اتر پردیش ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں جہاں پر مسلم اکثریت ہےان ریاستوں میں بھی حکومتوں نے مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کی ہے ، وہیں اتر پردیش میں حالات نہایت خراب ہیں ، جواکھیلیش بھیا مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان ہونے کی کوشش میں تھے اور جنکی خود کی ذات انہیں الیکشن میں دھوکہ دے چکی ہے وہی اکھیلیش یادو آج یو پی میں ہونے والی غارت گیری کی خبر لینے کے بجائے ٹوئٹر پر چڑیاں اڑا رہے ہیں اور کھل کر مسلمانوں کے تحفظ کے لئے آگے نہیں آرہے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ مایاوتی ،پرینکا گاندھی سمیت کئی نام نہاد سیکولر لیڈروں کا رد عمل سوائے اخباری بیان بازی کے اور کسی بھی مدعے پر کھل کر بات نہیں کررہے ہیں ۔ آج کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی پر اپنی خاندانی ملکیت پر ای ڈی نے آنچ لگانے کی کوشش کی تو کانگریسی لیڈران جن میں کئی مسلمان بھی شامل ہیں وہ چراغ پا ہوکر سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور اپنے آپ کو گرفتاریوں کے لئے پیش کررہے ہیں وہیں پچھلے ایک ہفتے سے مسلمانوں پر جو ظلم ستم ہورہاہے اس پر کانگریس کےطوطے ٹیں ٹیں کرنا بھی گوارہ نہیں کررہے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی ضرورت سب کو ہے لیکن مسلمانوں کی ضرورت کے لئے کوئی نہیں ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کے قائدین کی طرف سے بھی سوائے مذمتی بیانات کے اور کچھ نہیں ہورہاہے جبکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کے نبی ﷺ پر انگلیاں اٹھی ہیں اس وقت مسلمانوں نے گردنیں کٹوانے اور کاٹنے سے پیچھے نہیں ہٹے ، اب تو یہ کہا جارہاہے کہ ہر شام کے بعد صبح ہوگی ، صبر کا پھل میٹھا ہوگا، قانون کا احترام کریں، پرسکون رہیں ، اطمینان سے گھروں کو جائیں ۔ جبکہ دستور ہند تو حق کے لئے احتجاج کرنے سے لے کر قانونی کارروائی کرنے تک کے لئے اجازت دے رکھی ہے تو کیوںکر مسلمانوں کے قائدین اس راستے پر نہیں جارہے ہیں۔ تمام باتوں کا نکتہ یہیں آکر رکتا ہے کہ سیاسی ہو یا ملّی ہو ، سماجی ہو دینی ہو سب لوگ مسلمانوں کی چھاتیوں پر ناچ رہے ہیں اور ان چھاتیوں پر بیٹھ کر اپنا الّو سیدھا کررہے ہیں ۔ اگر آنے والے کچھ دنوں میں بھارت کی سیاسی ، ملی ، سماجی اور مذہبی قیادت اپنے حکمت کے لبادے کو چھوڑ کر جھٹ سے فاسقوں کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے ہیں تو یہ برہمن واد ملک کو تباہ کردیگا ، تب نہ عہدے رہیں گے ، نہ مسجدیں رہیں گی ، نہ مدرسے رہیں گے ، نہ اقلیتی رہیں گے اور نہ ہی دلت رہیں گے ۔