تیستا سیتلواڑ کی گرفتاری پریواین نے اٹھایا سوال؛بھارت برہم

سلائیڈر نیشنل نیوز
نئی دہلی : ہندوستان نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کی گرفتاری کو لے کر اقوام متحدہ انسانی حقوق دفتر کے تبصرہ کو پوری طرح سے ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے بدھ کو اس کو خارج کردیا اور کہا کہ یہ ملک کے آزاد عدالتی نظام میں مداخلت ہے ۔ اس موضوع پر وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستانی اتھاریٹی نے قانون کی خلاف ورزی کئے جانے پر کارروائی کی ہے ۔ تیستا سیتلواڑ کے خلاف کارروائی کو لے کر اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر دفتر کے تبصرہ پر باگچی نے کہا کہ او ایچ سی ایچ آر کا تیستا ستیلواڑ معاملہ پر تبصرہ پوری طرح سے ناپسندیدہ اور ہندوستان کے آزاد عدالتی نظام میں مداخلت ہے ۔اس کے علاوہ ترجمان نے کہا کہ ہندوستان عدالتی طریقہ کار کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر سختی سے کام کرتا ہے ۔ اس طرح کی قانونی کارروائیوں کو سرگرمی کیلئے استحصال کے طور پر لیبل کرنا گمراہ کن ہے ۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایسی قانونی کارروائی کو استحصال بتانا ، گمراہ کرنے والا اور ناقابل قبول ہے ۔ غور طلب ہے کہ او ایچ سی ایچ آر نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کو گرفتار کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فورا رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔بتادیں کہ اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی میری لالر نے تیستا سیتلواڑ کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گجرات پولیس کے دہشت گردی مخالف دستے نے تیستا کو حراست میں لیا ہے ، جس سے میں فکرمند ہوں ۔ تیستا نفرت اور بھیدبھاو کے خلاف ایک مضبوط آواز ہیں ۔ انسانی حقوق کا تحفظ کرنا کوئی جرم نہیں ہے، میں ان کی رہائی اور ہندوستانی ریاست سے استحصال کو ختم کرنے کی اپیل کرتی ہوں ۔