بنگلور :۔ ریاست میں کووڈ کی دوسری لہر کو قابو میں لانے کے لیے ریاستی حکومت نے معقول انتظامات کئے ہیں جس کی وجہ سے وباء کافی حد تک قابو میں آچکی ہے ، وباء کو قابو میں لانے کے لئے عوام کی مدد بھی بیحد ضروری ہے البتہ حکومت کی جانب سے خصوصی پیکیج کا اعلان نہیں کیا جاسکتا، اس بات کی اطلاع وزیر اعلیٰ بی یس یڈویورپانے کیا ہے ۔ انہوںنے اس سلسلے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کووڈ کے مریضوں کی شرح میں کمی آرہی ہے باوجود ملک کے دیگر ریاستو ں کے مقابلے میں کرناٹک اب بھی سر فہرست ہے ۔ کووڈ کے خلاف لڑنے کے لئے عوام کا ساتھ بیحد ضروری ہے ، ہر ایک کو چاہئے کہ وہ ماسک پہنے ، سوشیل ڈسٹنس کااہتمام کرے ، ہر دن صبح 6 بجے سے 10 بجے تک ہی ضروری اشیاء کی خریداری کریں اور غیرضروری بازاروں کارخ نہ کریں ۔ وزیر اعلیٰ یڈویو رپا نے بتایا کہ جمشید پور سے آج صبح 120 ٹن آکسیجن کرناٹک کو دستیاب ہوئی ہے ، خود میں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس سلسلے میں بات کی ہے اور وزیر اعظم نے یقین دلایا ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ میں وہ ریاست کا بھرپور ساتھ دینگے ۔ بنگلور میں قائم شدہ کوویڈ وار روم کا میں نے معائنہ کیاہے اور پورے ملک کے لئے یہ وار رومس ماڈل ہیں ، ہمارا طبی عملہ کووڈ کے مریضوں کے علاج کے لئے ہر ممکن کوشش کررہاہے اور ضرورت سے زیادہ محنت لگارہے ہیں باوجود اسکے مریضوں کی شرح اموات میں اضافہ ہورہاہے یہ بہت ہی افسوسناک بات ہے ۔ 500 سے زائد مریض کم از کم 10 تا 30 دنوں تک اسپتالوں میں ہی علاج حاصل کررہے ہیں ، ڈاکٹروں کے کہنے کے باوجود وہ گھروں کو نہیں جارہے ہیں جس سے علاج میں دشواریاں پیدا ہورہے ہیں اور دوسروں کو علاج کا موقع نہیں مل رہاہے ۔ دہلی میں بی جے پی کے قومی صدر سے ملاقات کے سلسلے میں جب ان سے سوال کیاگیا تو انہوںنے کہا کہ ریاست میں کووڈ کے حالات کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا گیاہے نہ کہ یہ سیاسی ملاقاتیں تھی اور مرکزی حکومت نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ریاست کے لئے ہر ممکن تعاون دینگے ۔ وزیر اعلیٰ بی یس یڈویورپا نے واضح کیاکہ ریاست میں ویکسینیشن کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، بلاوجہ لوگ پریشان نہ ہوں ، کووڈ ویکسین کو معقول مقدار میں منگوایا گیاہے اور جیسے ہی ویکسین آجائیگی تو ہر ایک شہری کو پروٹوکال کے مطابق ٹیکہ اندوزی کی جائیگی۔
