ریاستی حکومت کی تحریری یقین دہانی کے بعد بلدیہ کے ملازمین نے ختم کیااحتجاج

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
چار دنوں سے بلدیاتی ملازمین احتجاج کی وجہ سے بیشتر سڑکوں میں کوڑا کرکٹ جمع،گندگی سے عام لوگوں کا جینا ہوا محال
بنگلورو:۔مستقل روزگاراور دیگر مطالبات کو لیکرپچھلے چار دنوں سے بلدیاتی ملازمین کی جانب سےکئے جارہے ریاست گیراحتجاجات کاآج بلآخر اس کا اختتام ہوا ہے ، آج شام ریاست کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے احتجاجیوں کے مطالبات کوپوراکرنے کا تحریری جواب دیتے ہوئے اس احتجاج کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔احتجاجی ملازمین کے کام وکاج پر نہ آنے کی وجہ سے ریاست کے بیشتر علاقوں میں پچھلے چار دنوں سے سڑکوں پر کوڑا سڑ رہاتھااور لوگ اس گندگی سے پریشان ہوچکے تھے،اب کل سے یہ ملازمین کام وکاج پر لوٹ آئینگے۔وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے جمعہ کے دن بلدیاتی ملازمین کے مسائل کو لیکر خصوصی نشست کا اہتمام کیاتھا،جس میں کئی اہم فیصلے لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ملازمین کے مطالبات کو پوراکرنے کی بات تحریری طور پرپیش کی ہے۔آج شام وزیر اعلیٰ کے چیف سکریٹری نے وزیر اعلیٰ کی طرف سے پیش کئے گئے تحریری جواب کو ملازمین کے ساتھ پیش کیا۔وزیر اعلیٰ نے ان ملازمین کو بھروسہ دیاہے کہ وہ بلدیاتی ملازمین کو مستقل نوکری دینے کیلئے تیارہیں،اس کیلئے ایک جائزیاتی کمیٹی کی تشکیل دی جائیگی اور تین مہینوں میں اس رپورٹ کو پیش کرنے کیلئے کمیٹی کومہلت دی جائیگی۔اسی طرح سے ان ملازمین کو مستقل روزگارفراہم کرنے کے مقصد سے کمیٹی کو تین ماہ کے اندرہی اپنی رپورٹ پیش کرنی ہوگی،اس کے بعد کابینہ نشست میں حتمی فیصلہ لیاجائیگا۔حکومت نے یقین دلایاہے کہ بلدیاتی ملازمین کو ماہانہ2000 روپئے کا خصوصی بھتہ دیگی اور بلدیاتی ملازمین کی تقرری کیلئے علیحدہ ضوابط عمل میں لائے جائینگے،ساتھ ہی ساتھ تمام بلدیاتی ملازمین کو مکانات دئیے جائینگے۔ہر وارڈ میں کام کے دوران کچھ وقت آرام کرنے کیلئے ریسٹ ہوم بنایاجائیگا،جس میں انہیں بیت الخلاء وغیرہ دستیاب ہونگے۔بی بی ایم پی کے علاوہ ریاست کے دیگر علاقوں میں ٹھیکے پر کام کررہے ملازمین کومراحلہ وارمستقل نوکری دی جائیگی۔