یا اللہ ہمیں معاف فرما،میدان عرفات کی فضاء حجاج کی رقت آمیز دعاؤں سے گونج اٹھی

ریاض:۔دین اسلام کے اہم ترین رکن حج 2022 کا خطبہ میدان عرفات میں دیا گیا۔ رواں برس دنیا بھر سے آئے ہوئے دس لاکھ حجاج کرام کو جمعے کے روز حج اکبر کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سال 1443 ہجری کے حج اکبر کے اراکین ادا کیے جانے کے بعد خطبہ حج میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں دیا گیا، رواں برس خطبہ حج کے لیے ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ خطیب مقرر کیے گئے ہیں۔رواں برس خطبہ حج میدان عرفات سے براہ راست 14 زبانوں میں نشر کیا گیا جس سے دنیا کے طول وعرض میں ڈیڑھ کروڑ افراد نے استفادہ کیا۔جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات کے ذریعے حج کا خطبہ انگریزی، فرانسیسی، اردو، فارسی، روسی، چینی، بنگالی، ترکی، ملاوی، ہندی، اسپینی، تامل اور سواحلی زبانوں میں پیش کیا گیا۔خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے کہا کہ، اے ایمان والو! اللہ کی عبادت کرو، اللہ ہی واحد معبود ہے، اسی کی عبادت کریں۔ مسلمانوں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، بے شک اللہ رب العزت ہر چیز سے واقف ہے۔خطبے میں کہا گیا، وہ تمام عبادات کی جائیں جس کا حکم اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے دیا۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے جو تم کرتے ہو، اللہ نے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، اللہ نے نماز اور روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے والا اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے ۔خطبے میں کہا گیا، اسلام کی دعوت عام کرنے کی طرف جائیں، اللہ رب العزت نے فرمایا، لوگوں کو معاف کر دیا کرو۔ رسول ﷺ نے فرمایا جن کے اخلاق اچھے ہوں گے وہ قیامت کے دن میرے زیادہ قریب ہوں گے۔ خیر کے کاموں میں مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔خطبہ حج میں کہا گیا، مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچائیں، انسانیت کی قدر اور احترام کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ سب سے بڑی نعمت توحید کی ہے۔خطبے میں کہا گیا، اسلامی اقدار کا تقاضہ ہے جو چیز نفرت کا باعث بنے اس سے دور ہو جاؤ، اللہ نے فرمایا متقی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے ہیں۔خطبہ حج میں کہا گیا، نیکی کرنے میں ہمیشہ جلدی کرو، مصیبت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔دنیا بھر سے تقریباً دس لاکھ فرزندان توحید میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ادا کر رہے ہیں۔ حجاج کرام کی بڑی تعداد جبل رحمت پر جمع ہو کر گڑ گڑا کر اللہ سے دعائیں مانگ رہے ہیں۔سفید احرام میں ملبوس حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے مسلمان مرد وخواتین کی زبانوں پر تلبیہ ہے ،ا س کے ساتھ ساتھ حجاج کرام جبل رحمت پر رو رو کر بخشش، مغفرت، رحمت اور برکت کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔جبل رحمت جسے ’جبل عرفات‘ کہا جاتا ہے مکہ مکرمہ کے مشہور مذہبی اور تاریخی پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ حجاج کرام صبح کے وقت جبل رحمت کی طرف عازم سفر ہوتے ہیں اور یہاں پر وقفہ کبریٰ کرتے، دعائیں کرتے ہیں۔میدان عرفات کے بیچوں بیچ جبل رحمت ہے۔ یہ میدان عرفات کے شمال مشرق میں سرخ رنگ کی ایک مخروطی پہاڑی ہے جس کی اونچائی 200 فٹ سے کچھ کم ہے اور عرفات کے اصل پہاڑی سلسلے سے ذرا الگ سی ہوگئی ہے۔عام لوگ پہاڑ کو جبل رحمت کو "جبل القرین” بھی کہتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ سینگ کی طرح اس کی چوٹی کی شکل ہے۔ اسلامی جغرافیہ کی کتابوں میں اسے "الال پہاڑ” کا نام بھی دیا گیا ہے۔’جبل رحمت‘ اپنے اردگرد کے پہاڑوں کی نسبت ایک چھوٹا پہاڑ ہے۔ اس کی اونچائی 30 میٹر سے زیادہ نہیں ہے اور چوٹی پر چار میٹر کی اونچائی کے ساتھ اندازہ لگانے کے لیے ایک تازہ ترین اعداد وشمار موجود ہیں۔میدان عرفات شمال سے جنوب تک 12 کلومیٹر اور مشرق سے مغرب تک پانچ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ شمالی جانب سے عرفات نامی پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے۔یہ پہاڑ عرفات کے شمال میں اور حرم کی حدود سے باہر باہر واقع ہے۔ اس کی چوٹی پر چڑھنا مشکل ہے۔ اس لیے میں نے چوٹی تک پہنچنے کے لیے زینے بنائے گئے ہیں۔یہاں پر عرفہ کے روز حجاج کرام وقوف کے لیے پہنچتے ہیں۔ وقوف عرفہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میں وقوف کیا ہے۔ پورے کا پورا عرفہ وقوف ہے۔حجۃ الوداع کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی اونٹنی القصویٰ پر سوار ہو کر وقوف عرفات تک پہنچے۔ آپﷺ نے وہیں قیام فرمایا تھا۔
