شیموگہ:۔شہرکے مرکز ی سُنی قبرستان میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر جگہ جگہ کچرے کا ڈھیرنظرآرہاہےاوربارش کی وجہ سے درخت بجلی کے تار پر گرجانے سے پانی کی قلت کاسامنابھی کرنا پڑرہاہے اور بجلی کنکشن ٹوٹ گیاہے۔یہ وہی قبرستان ہے جس کی صفائی فیروز اور ان کے ساتھیوں نے کروائی تھی اوراس اقدامات کی کافی ستائش بھی کی گئی ،قبرستان کی دیکھ بھال میں لاپرواہی کی شکایت پر جب یہاں کا معائنہ کیاگیاتو جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظرآئے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے قبرستان کے گورگن رفیق نے بتایاکے شدید بارش کی وجہ سے ایک درخت بجلی کی تار پرگرگیااورتقریباًسات دن ہوگئے اور اس کی شکایتضلع وقف بورڈ افسر اوردیگر افراد سے کی گئی لیکن اس جانب کسی بھی طرح کی کوئی دلچسپی نہیں دی گئی ۔ضلع وقف بورڈ افسر نے قبرستان آکر گرئے ہوئے درخت کی تصویر لیکرتوگئے لیکن درخت کو بجلی کے تار پر سے ہٹانے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔قبرستان میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے سات دنوں سے پانی کی قلت کاسامنا کرناپڑرہاہے اور رات کو میتوں کی تدفین میں پریشانیوں کاسامناکرنا پڑرہاہے۔جب اس بات کی اطلاع سماجی کارکن ٹینک محلہ فیروز کودی گئی توانہوں نے درخت کو بجلی کے تار سے ہٹا کر ٹوٹے ہوئے بجلی کےتاروں کوجوڑنے کے کام انجام دینے کایقین دلایا اور اپنے ذاتی خرچ درخت کوکٹوایا ہے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے فیروز نے کہاکہ قبرستان میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی شکایت کرنے کے باوجود یہاں پر کسی بھی طرح کے اقدامات اٹھائے نہیں گئے ہیں جوکہ اس جانب عدم توجہ افسوسناک ہےاورور تدفین کیلئے آنے والوں کوپانی ضرورت پڑتی ہےیہاں دونوں بنیادی سہولیات نہیں ہیں اس کیلئے آخرذمہ دار کون ہے؟شہرمیں موسلادھا ربارش کا سلسلہ جاری ہے،قبرستان میں کئی اونچے درخت ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ بارش سے درختوں کاگرجانا ایک عام بات ہےلیکن بجلی کے تاروں پرگرےہوئے درختوں کوفوری طور پرہٹادینے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اگر اس کام میں تاخیرکی گئی توکچھ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ قبرستان کولوگوں کاآناجا رہتاہے۔ایسے بہت سے درخت ہیں جو کسی وقت بھی گرسکتے ہیں اس جانب ذمہ داروں کوتوجہ دینے کی ضرورت ہے ۔اس موقع پررحمت اللہ ،بابو اوردیگرموجودتھے۔
