انسانیت ہی اصل مذہب ہے ،درجہ بندی نظام سے معاشرے میں عدم مساوات کو فروغ ملتا ہے : سدارامیا

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔ مذہب کے معنی زندگی کا لائحہ عمل ہے ، مذہب کیلئے ہم ،ہمارے لئے مذہب ہونا چاہیےجس مذہب میں انسانیت نہیں وہ مذہب ہی نہیں ، انسانیت ہی اصل مذہب ہے۔اِن خیالات کا اظہار سابق وزیر اعلیٰ و اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے ویرکتا مٹھا کے جئے دیو ثقافتی ہال میں منعقد جئے دیو ا مرگھا راجیندرا سوامی کے 65ویںیادگار اجلاس میں گر ا نقدر جئے دیوا اعزاز حاصل کرنے کے بعد کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں درجہ بندی کا نظام نہ ہوتا تو ملک میں عدم مساوات کا تصور نہ ہوتا چترونا رسم میں اوپر کے تین طبقات اور خواتین کو علم حاصل کرنے کا موقع ہی نہیں رہا ،ہمارے ملک میں 350زبانیں ’25’ اسکریپٹ ‘4000’ سے زائد طبقات ہزاروں خداؤں کے رہتے ہمارے یہاں ذات کے نظام کا چلن نہیں وہ جڑتا ہے، اسی لئے بسوانا ، بدھا ،امبیڈکر نےذات کے نطام کے خلاف جدوجہد کیا،جہاں ذات پات کا نظام ہوگا وہاں عدم مساوات اور اچھوت کی رسم رہے گی،بسوانا نے ‘900’ سال پہلے ہی کہا کہ ‘ایوا نموا ‘ ایوا نموا ‘ مگر آج بھی ‘ایون یاروا یوان یاروا کا حال پایا جارہا ہے۔مساوات کی بنیاد پر تعمیر سماج ہی سے عدم مساوات کا خاتمہ ممکن ہے ، استحصال اور غریبی کا ایک دوسرے سےرشتہ رہتے جب تک استحصال کا خاتمہ نہیں ہوجاتا تب تک غریبی کسی صورت ختم نہیں ہوتی،جس کسی کو کسی معاملے میں دلچسپی ہوگی اُن میں کسی قسم کا انتشار نہیں ہوتا زندگی سے متعلق نظریہ کی وضاحت ضروری ہے ،بسوانا اور امبیڈکر  کو مذہب انسانیت اور معاشرے سے متعلق اپنی سوچ کی وضاحت تھی اسی لئے اُنہوں نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی مگر آج بہت سارے لوگ انتشار کا شکا ر ہوچکے ہیں جو نہایت ہی افسوس ناک ہے ۔تمام ملکوں کے دستور کے مطالعہ کے بعد دستور ہند ترتیب دیا گیا باوجود اسکے دستور ہند کا نفاذ کرنے والے کیسے ہیں اُن کی نگاہ میں دستور ہند کی کیا اہمیت ہے اس پر دستور ہند کی سچائی پوشیدہ ہےخود دستور ہند کے شاہکار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے اپنے خطاب میں کہا تھا ۔سدارامیا نے مزید کہاکہ اُنہوں جب جنتادل یس سے الگ ہوکر اہندہ تنظیم قائم کیااُسکے تمام اجلاسوں میں مرگھا شرنارو شریک رہا کرتے اور حوصلہ افزائی کیا کرتے ،شکایتوں پر توجہ دئے بغیر اہندہ طبقات کو حوصلہ فراہم کرتے لہذا سوامی جی کااحسان مند ہوں۔شُنیا پیٹھا المہ اعزاز حاصل کرنے کے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس موقع پر سابق کونسل چیرمن ڈاکٹر ڈی ہیچ شنکر مورتی نے کہا کہ دُنیاکو جمہوریت کا سبق دینے والاملک بھارت مگر اُس کو پہلے رِواج میں لانے والی ریاست کرناٹک ہے، ریاست کرناٹک میں بہت پہلے بسوانا جمہوریت کو رِواج دے چکے تھے،غریب طلباء کو تعلیم اور کھانادیتے ہوئے آئے سوامی جی کا کام قابل ستائش ہے۔اجلاس کی صدارت کررہے چتردرگ مرگھا راجیندر مٹھ کے ڈاکٹر شیومورتی مرگھا راجیندرا سوامی نے کہا کہ معاشرے میں مختلف صفات کے لوگ رہتے ہیں ، سماج میں جیت کر آنے والےاور اُٹھ کر آنے والے  ہوتے ہیں غریبی سے مقابلہ کرکے آنے والے جیت کر آنے والے ہوتے ہیں ،سدارامیا جیت کر آنے والوں میں جن کا شمار ہوتا ہےاور اُٹھ کر آنے والوں میں گاندھی ،نہرو ، واچپائی ، شمار کئے جاتے ہیں ،یہ تما م اپنی توانائیوں کو جھونک ذمہ داری نبھا ئے ہیں،اجلاس سے گرومہانتسوامی الکل نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پرسابق ریاستی وزیر یس یس ملیکارجن ،سابق ریاستی وزیر ہیچ آنجیا،نو منتخب رُکنِ کونسل کے عبدالجبار،رُکنِ اسمبلی ہری ہر یس رامپا ،ملت تعلیمی ادارہ جات کے بانی وا عزازی سکریٹری سینئرکانگریس لیڈر سید سیف اُللہ ، سابق ضلع وقف مشاورتی کمیٹی چیرمن محمد سراج ، ویرکتا مٹھ کے واحد مسلم ٹرسٹی پلاننگ کمیشن ممبر سماجی کارکن ڈاکٹر سی آر نصیر احمد ،بسواپربھو سوامی ویرکتا مٹھ والمیکی سماج کے صدر بی ویرنا وغیرہ اجلاس میں شریک رہے۔اس موقع پر سدارامیا اور ڈی ہیچ شنکر مورتی دونوں نے اعزاز کے ساتھ دی گئی فی اعزاز پچاس ہزارروپئے کی رقم کو مٹھ کے فلاحی کاموں میں خرچ کرنے شیوایوگی آشرم ٹرسٹ کو ہی واپس لوٹایا۔