بنگلورو:۔مرکزی حکومت کی جانب سے اشیائے خوردنی (کھانے پینے کی اشیاء) پر پانچ فیصدکی جی ایس ٹی عائدکئے جانے کے فیصلے کے خلاف یہاں کے بازار احتجاجاً بند ر ہے ۔جمعہ کے دن یشونت پور اے پی ایم سی یارڈ سمیت مختلف منڈیاں آج اپنے کاروبار کوبند کرتے ہوئے احتجاج درج کروایاہے،اس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد چاول مل،آٹامل بھی اپنے کاروبار بند رکھے ہوئے تھے،جبکہ بنگلورو اے پی ایم سی مزدور یونین اور ڈیلرس یونین نے بھی اس احتجاج کی تائیدکی ہے۔یہاں کے یشونت پور اے پی ایم سی یارڈمیں ایک ہزار سے زائد منڈیاں اور ہول سیل تاجر وں کی دکانیں موجودہیں جہاں پر روزانہ50 کروڑ روپیوں سے زیادہ کاروبار ہوتاہے۔بندکے فیصلے سے آج پورادن کاروبار بند رہا،جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان درج کیاگیاہے۔اس سلسلے میں تاجروں نے بتایاکہ مرکزی حکومت نے اشیائے خوردنی پر پانچ فیصد کا جی ایس ٹی عائدکیاہے،اس سے چاول،مکئی جاری،گیہوں اور راگی پر بھی ٹیاکس لگے گا،اس سے عام لوگوں کا جینا محال ہوجائیگا ،ساتھ ہی ساتھ منڈیوں کو بھی نقصان اٹھاناپڑیگا۔تاجروں کے اس احتجاج کو بنگلورو مرچنٹس اسوسیشن،بنگلورو گرین مرچنٹس اسوسیشن، کرناٹکا رورل فلورملس اسوسیشن سمیت مختلف تنظیموں نے تائیدکی ہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ18 جولائی سے نئی ٹیکس کی شرح نافذ ہوجائیگی،جس سے خریداروں کو پانچ فیصد ٹیکس اداکرناہوگا۔یعنی اگر کوئی شخص ایک بوری چاول ایک ہزار روپئے میں خریدتاہے تو اسے پانچ فیصد کا ٹیکس ادا کرناہوگا۔
