انجینئروں کی کوتاہی سے سڑکیں ہورہی ہیں تباہ:ماہرین نے پیش کی رائے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔موسلادھار برسات کے دوران میں کرناٹکا کے گھاٹ والے علاقوں میں جو بار بار زمین اور چٹانیں کھسکنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں اس کے تعلق سے ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ یہ سب قدرتی ماحول میں انسانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی مداخلت کے علاوہ سڑکیں تعمیر کرتے انجینئرنگ کے بنیادی اصولوں کو طاق پر رکھنے اور انجینئروں کی طرف سے ہورہی کوتاہیوں اور غلطیوں کا نتیجہ ہے ۔انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس میں ڈپارٹمنٹ آف سول انجینئرنگ کی پروفیسر جی مادھوی کا کہنا ہے کہ گھاٹ کے ڈھلوان والے علاقے میں سڑکوں کی تعمیر یا اس کی توسیع کرتے وقت جس اصول اور زاویے سے پہاڑی کو کاٹنا چاہیے اور قدرپہاڑی ڈھلان کے جس قدرتی زاویے کو برقرار رکھنا چاہیے اس کی طرف انجینئرس بالکل دھیان نہیں دے تھے اور انجینئرنگ کے اصولوں کو نظر انداز کرکے کٹائی کرتے ہیں ۔ درختوں کو اکھاڑتے وقت مٹی کو بہت زیادہ ڈھیلا ہونے سے روکنے کیلئے مناسب احتیاط نہیں برتی جاتی ۔ سڑک کی بغل میں پانی نکاسی کے نالے نہیں بنائے جاتے ۔ کٹی ہوئی پہاڑی کو مزید ڈھلنے سے روکنے کیلئے درست انداز میں انتظام نہیں کیا جاتا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تیز بارش ہوتے ہی زمین اور پہاڑی چٹانیں کھسکنے لگتی ہیں ۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہاڑی علاقے میں سڑکیں یا دیگر تعمیرات کیلئے ایک بار جب درخت کاٹے یا جڑ سے اکھاڑے جاتے ہیں تو اس علاقے کی مٹی ڈھیلی پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہاں باقی رہنے والے دوسرے درختوں  کے لئے زمین کو تھامے رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ایسے جنگل اور پہاڑی ڈھلان والے علاقوں میں ایک بار کٹائی کے بعد مٹی اور زمین کو مضبوطی سے جمنے کیلئے کم از کم 15 سال کا وقفہ ضروری ہوتا ہے ۔ مگر نئی نئی تعمیرات اور توسیعات کے پیش نظر ان علاقوں میں بار بار مداخلت کی جاتی ہے اور کھدائی اور کٹائی کا سلسلہ تھوڑے تھوڑے عرصہ سے چلتا رہتا ہے ۔ اس طرح کی حرکتیں مٹی کھسکنے اور چٹانیں ڈھلنے کا سبب بن جاتی ہیں ۔ نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے ایک افسر نے بتایا کہ عام طور پر ہائی ویز پر یا خاص کرکے گھاٹ علاقے میں سڑک کا کام کرنا ہو تو ماہرین ارضیات کی ایک ٹیم سے کروانا ضروری ہے ۔ لیکن سروے کے بغیر ہی کام کرنے کے لئے تعمیری کام چھوٹے چھوٹے حصے میں کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ چھوٹا کام ہوتو پھر سروے کرنا لازمی نہیں ہوتا ۔ اس طرح بڑے کام کو ٹکڑوں میں بانٹ کر پورا کیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ شرڈی گھاٹ میں کیا گیا تھا ۔ اور اس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہاں بار بار زمین کھسکنے واقعات ہو رہے ہیں ۔روڈ انجینئر ایم این سری ہری پہاڑی ڈھلان کی قدرتی حالت کو نہ بگاڑنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کے تعلق سے انجینئرنگ کورس کے چھٹویں سیمسٹرمیںاسباق پڑھائے جاتے ہیں ۔ مگر اب انجینئرس عملاً ان اصولوں پر عمل نہیں کرتے ۔نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا اور پی ڈبلیو ڈی کے افسران نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پہاڑی ڈھلان کو قوت دینے اور سنبھالنے والے پانی نکاسی کے نالے نہیں کھودے جارہے ہیں اور جہاں پر نالے موجود ہیں ان کی دیکھ بھال بھی نہیں کی جارہی ہے اور یہ بھی زمین کھسکنے کا ایک سبب ہے ۔