انجمن ترقی اردو ، مسائل اور حل (2)

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے دنوں حیدر آباد میں بھارتیہ جنتاپارٹی کی مجلس عاملہ کی نشست کااہتمام کیا گیا تھا جس میں یہ طئے پایا گیا کہ بی جے پی اب مسلمانوں کوقریب کرنے کی پہل کرے اور اردو زبان کا استعمال کرتےہوئے مسلمانوں کے درمیان جائے ۔ جب بھارتیہ جنتاپارٹی جو مسلمانوں کی مخالفرہی ہے اور جس نے کبھی یہ کہا تھاکہ مسلمانوں کے ووٹوںکے بغیر ہی ہم حکومت قائم کرسکتے ہیں تو اب انہوںنے اپنا رخ بدلتے ہوئے یہ طئے کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ لینگے اور اردو کو استعمال کرینگے ۔ یہ بات یہاں اس لئے کہی جارہی ہے کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو زبان کا مستقبل نہیں ہے اور یہ جلد ختم ہوجائیگی تو انہیں جان لینے کی ضرورت ہے کہ اردو زبان کی اہمیت کو مسلمانوں سے زیادہ غیروں نے جاننا شروع کردیا ہے ۔ رہی بات کرناٹک میں سر از نو تشکیل شدہ انجمن ترقی اردو کی ، انکے سامنے مسائل بہت ہیں اور حل بھی آسان ہیں بس انکو روایتی مشاعروں ، سمیناروں کو چھوڑ کر دیگر موضوعات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل اردو اوپن یونیورسٹی کی جانب سے سال 2013 یکم دسمبر کو سیٹیلائٹ کیمپس کا سنگ بنیاد بیدر میں رکھا گیا تھا جس میں کے جی سے پی جی تک کی تعلیم دینے کے لئے سہولت فراہم کی جانی تھی ، اس وقت کے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا ، لیکن 9 سال گزرجانے کے بعد بھی اس سیٹلائٹ کیمپس کی ترقی کے تعلق سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے جو کہ ایک مسئلہ ہے ۔ اسی طرح سے کرناٹک کے ہی بھٹکل میں سرکاری عمارت پر لکھے ہوئے اردو بورڈس کو ہٹانے کے لئے پچھلے دنوں مہم چلائی گئی تھی جس کی تائید میں کاروار ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے یہ حکم صادر کیا کہ اردو میں لکھے ہوئے بورڈ کو ہٹایا جائے ، اسی کے چلتے ریاستی حکومت نے بھی حکم دیا کہ ریاست میں تمام بورڈ پر کنڑا زبان میں لکھے جائیں پھر انگریز ی زبان کا استعمال کیاجاسکتاہے ۔ یہ دونوں مثالیں اس لئے اہم ہیں کہ اردو زبان کے لئے قائم شدہ تنظیموں اور انجمنیں جب تک پہلے حکومتوں سے اپنے حقوق نہیں منواتے اس وقت تک اردو کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ بیدر میں قائم شدہ مولانا آزاد سیٹلائٹ کیمپس کے تعلق سے آخر آج تک اردو انجمنوں نے کیوں آوازنہیں اٹھائی ہے ؟۔ کیا یہاں سے اردو زبان کا ارتقاء اورترقی ممکن نہیں ہے ؟۔آج اردو زبان کو زندہ رکھنے اور اردو زبان سے لوگوں کو متعارف کرنے کا کام بڑے پیمانے پر ہورہاہے تو وہ اردو صحافت ہے جس میں فائد ہ کم نقصان زیادہ ہونے کے باوجود اردو اخبارات اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں ایسے اخبارات کی ترقی و ترویج کے لئے منصوبے بنانے کی ضرورت ہے ، درجنوں نیوز پورٹلس موجود ہیں ان پورٹلس کے لئے علاقائی ، ضلعی اور ریاستی سطح پر کوآرڈینیشن کمیٹیوں کی تشکیل دینے کی ذمہ داری کس کی ہے ؟۔ جب تک اردو کی ترقی کے لئے اکادمی طرز عمل کو چھوڑ کر تحریکی شکل میں کام نہیں کیا جاتاہے اس وقت تک اردو زبان کی ترقی ممکن نہیں ہے ۔ اس وقت ریاست کے درجنوں ایسے کالج و اسکول ہیں جہاں پر بچوں کی مادری زبان اردو ہے یا وہ پرائمری یا پی یو سطح تک اردو کو بطور زبان اول پڑھے ہوئے ہیں ان بچوں کو کالجس میں اردو بطور لانگویج اختیار کروانے کے لئے حکومت پر دبائو ڈالا جائے اور ایسے اسکول یا کالج جہاں پر اردو زبان پڑھنے والے بچے ہوں وہاں پر گیسٹ ٹیچر یا لکچرر کا تقرر کروایا جائے ، اس سے اردو پڑھنے والوں کی تعداد بھی باقی رہے گی اور اردو کے معلمین کو روزگار بھی ملے گا ، کیا یہ مسئلہ اوراسکا حل نہیں ہے ؟۔ بار بار یہ کہا جارہاہے کہ اردو پڑھنے سے روزگار کے مواقع نہیں ملتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ آخر کس زبان کو پڑھنے سے روزگار مل رہے ہیں ۔ آج کل اسٹانڈ اپ کامیڈی یعنی طنزو مزاح کے نام پر ہندی زبان کے درجنوں طلباء سوشیل میڈیا اور میڈیا میں چھائے ہوئے ، کم و بیش یہ تمام اچھی ہندی کو اردو کے ساتھ مکس کرتے ہوئے بول ہی لیتے ہیں لیکن اردو زبان کے فن پر پی ہیچ ڈی کرنے والوں ، پروفیسروں اور لکچرروں نے کبھی اس سمت میں غورکیاکہ نئی نسلوں کو ایسے ہنرسے روشناس کرانے کے لئے کارگاہیں یا کورسس کا آغاز کیا جاسکتاہے ۔ مشتاق احمد یوسفی ،شوکت تھانوی ، یوسف ناظم ، پطرس بخاری اور مرزافرحت اللہ بیگ جیسے درجنوں مزاح نگاروں پر تحقیقی مقالے تو لکھے جارہے ہیں لیکن کیا انکے ادب کو فن اور روزگار کے طورپر استعمال نہیں کیاجاسکتاہے؟۔ اردو کی ترقی کے لئے اب روٹری کلب ، لائنس کلب جیسے کلب قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج بھی اردو سماج میں افسانہ نگار موجود ہیں ، ناول نگار ہیں کیا کبھی ان اصناف پر روشنی ڈالنے کے لئے محفلیں سجائی گئی ہیں ۔ یہ کام اردو تنظیمیں نہیں کرینگے تو کون کرینگے ؟۔ کیا اسکے لئے دوسری زبان والے اہمیت دینگے یا پھر آسمانی مخلوقات اترینگے ۔ سب سے پہلے اردو کے تعلق سے یہ بدگمانی پھیلانے والوں پر چپل برسائیں کہ اردو ختم ہورہی ہے یا اردو پڑھنے والے نہیں ہیں ۔ اگر اردو پڑھنے والے نہ ہوتے تو آج بھی بالی ووڈ کی فلموں کے نام اردو میں لکھے جاتے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اردووالےخود کم ظرفی اور احساس کمتری کا شکار ہوچکے ہیں جو وسیع النظر نہیں ہیں ۔ چند ایک درباری شعراء اور چندہ خوروں کو تنظیموں میں رکھ کر یہ امید کرنا کہ اردو کی بقاء ممکن ہے یہ سوائے گمراہی کے کچھ بھی نہیں ہے ۔ اکثر یہ کہا جاتاہے کہ نوجوان نسل کو اردو سے جوڑنے کے لئے کام کرنا چاہئے ، یہ اسی وقت ممکن ہے جب انجمنوں اور تنظیموں میں ذمہ داریاں تجربہ کار بزرگوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو دی جائے ۔ اسٹیجوں پر بزرگوں ، وظیفہ خوروں اور کل پرسوں میں آخرت سنوارنے والوں کی مجلس سجائی جاتی ہے اور نوجوانوں کو سامنے سامعین کے طورپر بٹھادیا جائے تو نوجوان کیسے اردو زبان سے جڑیں گے ۔ جو پروفیسران زندگی بھر سات ، آٹھ ، دس بچوں کو پڑھا کر یوجی سی کی تنخواہ کھائے ہوں اور کاپی پیسٹ کے مقالے لکھ کر پی ہیچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کئے ہوئے ہوں یا دلوائے ہوں ان سے اردو زبان کی ترقی و ترویج کی کیسے امید کی جاسکتی ہے ۔ اردو زبان کی ترقی اگر واقعی میں چاہتے ہوں تو نہج اور اسٹیج دونوں کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ اردو نئی نسل کی نہیں وظیفہ خوروں کی زبان بن کر رہ جائیگی ۔ ( جاری ہے )