شیموگہ:۔ ضلع کانگریس کمیٹی کے نائب صدر مختار احمد نے آج اپنے ایک بیان میں بتایا کہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کو صرف احتجاجات کے لئے استعمال کررہی ہے اسکے علاوہ انہیں کسی بھی طرح کے حقوق نہیں دے رہی ہے، اسلئے کانگریسی مسلمان پارٹی کے احتجاجات میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب بھی مسلمانوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے یا مسلمانوں کے مسئلےپر احتجاجات کرنے کاموقع آیاہے تو اُس دوران کانگریس نے اپنا دامن بچانے کی کوشش کی ہے۔مرکزی حکومت نے ای ڈی کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے خلاف کارروائی کرنے کی جو پہل کی ہے اُس کے خلاف کانگریس پارٹی نے اس بات کااظہارکیاہے کہ اُن کے ساتھ ہم ہیں اُسی کے تحت22 جولائی یعی آج جمعہ کی صبح11 بجے شیوپانائک مورتی کے سامنے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیاہے،ایسے میں مسلمان اس احتجاج میں جائیں یا نہ جائیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ضلع کانگریس کمیٹی نے مسلمانوں کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کیاہے،احتجاجات اور الیکشن تک ہی مسلمان محدود ہوچکے ہیںباقی معاملات میں مسلمانوں کی آواز نہیں سنی جارہی ہے۔ایسے میں مسلمانوں کو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر کل دن کچھ کم وپیشی ہوتی ہے تو کیا اس کیلئے مسلمانوں کے دفاع میںکانگریس پارٹی آگے آئیگی؟۔پچھلے کئی دنوں سے مسلمانوں کوبُری طرح سے نظراندازکیاجارہاہے،کانگریس میں بھی مسلم لیڈروں کی کوئی کمی نہیں ہے،مگر ان لیڈروں کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق ہی استعمال کیاجارہاہے ۔ حجاب کا معاملہ جب ریاست میں زیر غور تھا،اُس دوران کانگریس پارٹی نے خاموشی اختیارکررکھی ہوئی تھی اور اپنے لیڈروں کو اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی بیان بازی کرنے یا حرکت میں آنے سے منع کیاگیاتھا۔اذان اور قربانی جیسے معاملات پر بھی کانگریس پارٹی نے خاموشی اختیارکیاتھا اور مسلم لیڈروں کو بھی خاموش رہنے کی صلاح دی تھی۔ایسے میں جب مسلمانوں کی ضرورت پڑی ہے تو اب احتجاج کیلئے بلایاجارہاہے،مسلمان سوچ سمجھ کر مستقبل کے شرائط پر اپنا فیصلہ لیں اور پوری کوشش کریں کہ اس طرح کے استعمال ہونے والے احتجاجات سے گریز کریں۔
