عالمی ادارۂ صحت کاایک بار پھر’ منکی پاکس ‘کو عالمی ایمرجنسی قرار دینے پرغور

انٹرنیشنل نیوز

نیویارک:۔ عالمی ادار ہ صحت (ڈبلیوایچ او) نے جمعرات کو اپنی ہنگامی کمیٹی کا ایک اور اجلاس طلب کیا ہے۔کمیٹی گذشتہ چندہفتے میں دوسری باراس بات پرغور کررہی ہے کہ آیا آبلہ بندر(منکی پاکس) کی پھیلتی ہوئی وَبا کو عالمی بحران قرار دیا جائے یا نہیں۔بعض طبی سائنس دانوں کاکہنا ہے کہ افریقا اور ترقی یافتہ ممالک میں پھیلنے والی اس وَبا کے بارے میں حیرت انگیز اختلافات کسی بھی مربوط ردعمل کو پیچیدہ بنا دیں گے۔افریقی حکام واضح کرچکے ہیں کہ وہ پہلے ہی براعظم میں اس وَبا کو ہنگامی صورت حال کے طور پر دیکھ رہے ہیں لیکن دیگر مقامات کے ماہرین کے بہ قول یورپ، شمالی امریکا اور اس سے ماورا منکی پاکس کی قدرے کم زور شکل یاقسم ہنگامی اعلان کوغیر ضروری بنا دیتی ہے۔اگرچہ وائرس کو پھیلنے سے روکا نہیں جاسکتا۔دوسری جانب برطانوی حکام نے حال ہی میں اس بیماری کی شدت میں کمی کے پیش نظراس کے بارے میں اپنی تشخیص کی سطح کو کم کر دیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھانوم غیبریوسس نے ایمرجنسی کمیٹی کو بتایا کہ میں ان ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں فکرمند ہوں جہاں آبلہ بندر کے نئے مریضوں کی اطلاع ملی ہے۔انھوں نے کہا کہ بعض ممالک میں آبلہ بندرکے کیسوں کی تعداد میں کمی کی اطلاع’’خوشگوار‘‘ہے لیکن یہ وائرس اب بھی کہیں اوربڑھ رہا ہے اور چھے ممالک نے اپنے ہاں گذشتہ ہفتے پہلے پہلے کیس کی اطلاع دی تھی۔آبلہ بندر کا وائرس گذشتہ کئی دہائیوں سے وسطی اور مغربی افریقا کے کچھ حصوں میں موجود ہے جہاں بیمارزدہ جنگلی جانور گاہے ماہے دیہی علاقوں میں لوگوں کو متاثرکرنے کا موجب بنتے ہیں۔بعض ماہرین اس تشویش کا اظہارکرچکے ہیں کہ اس وائرس سے متعلق اور دیگراختلافات ممکنہ طور پرغریب اور دولت مند ممالک کے درمیان موجودہ طبی عدم مساوات کو مزید گہرا کرسکتے ہیں۔اس وقت دنیا بھرمیں آبلہ بندرکے 15,000 سے زیادہ تشخیص شدہ کیس ہیں۔ اگرچہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک نے اس سے بچاؤ کی ویکسین کی لاکھوں خوراکیں خرید کی ہیں لیکن افریقا کوہنواز کوئی ویکسین مہیا نہیں کی گئی ہے جہاں منکی پاکس کی زیادہ شدید قسم سے پہلے ہی 70 سے زیادہ افرادہلاک ہو چکے ہیں جبکہ امیرممالک نے ابھی تک منکی پاکس سے کسی موت کی اطلاع نہیں دی ہے۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر پال ہنٹر کا کہنا ہے کہ براعظم افریقہ میں جو کچھ ہورہا ہے،وہ یورپ اور شمالی امریکا میں پھیلنے والی وَبا سے قریباً مکمل طور پرمختلف ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے رواں ہفتے کہا تھا کہ افریقہ سے باہر منکی پاکس کے تمام کیسوں میں سے 99 فیصد متاثرین مردہیں۔ یہ بیماری کسی کو بھی منکی پاکس کے مریض کے ساتھ قریبی، جسمانی رابطے میں متاثر کر سکتی ہے۔